اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، غیر قانونی نقل مکانی ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ایسا ماحول فراہم کرے جہاں وہ اپنے ملک میں اپنا مستقبل دیکھ سکیں لیکن یہ ماحول تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں سے ہی پیدا کیا جا سکتا ہے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق(این سی ایچ آر) کی جانب سے منگل کو پاکستان سے بے قاعدہ ہجرت پر رپورٹ کے اجراکے موقع پر منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ بے قاعدہ ہجرت کے سنگین مسئلے کے حل سے قبل اس کا پس منظر دیکھنا ہوگا اور ان وجوہات کا احاطہ کرنا ہوگا جن کے باعث لوگ اپنے پیاروں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ معاشی عدم استحکام ہوسکتا ہے جس کی وجہ وہ اپنے بہن بھائیوں ،ماں باپ اور دیگر پیاروں کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ مشکل حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، بحیثیت ریاست پاکستان کو اس مسئلے کا سامنا ہے ،غیر قانونی نقل مکانی کے دوران متعدد تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ،اس عمل کے دوران متعدد جان لیوا واقعات بھی رونما ہوتے دیکھے گئے ہیں، ان حادثات سے بچ جانے والے انسانی اسمگلرز کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں انتہائی کم قیمت پر غلامی کی زندگی میں دھکیل دیتے ہیں اور یوں مستقبل کے سہانے خواب دیکھنے والے عمر بھر کے لئے دلدل میں دھنس جاتے ہیں ۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ غیر قانونی نقل مکانی کے حوالے سے درپیش کثیر الجہتی مسائل سے نمٹنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے اور لوگوں کو ایک سازگار ماحول کی فراہمی ہونی چاہئے ،اگر کوئی بھی فرد اپنی پیشہ وارانہ مہارت کے بل بوتے پر کسی بھی ملک جانا چاہے تو اس کے لئے آسانیاں فراہم کی جانی چاہیئں اور اس مقصد کے لئے قواعد و ضوابط میں نرمی ضروری ہے۔
