بیجنگ: چین نے کہا ہے کہ وہ چینی شہریوں پر داسو خودکش حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں کی تلاش اور انہیں سزا دینے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک بار پھر پاکستانی حکام کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے اور چینی اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مارچ میں متعدد چینی شہریوں کی ہلاکت کے حوالے سے پاکستانی حکام کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے، دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا: “ہم پاکستان کی طرف سے کی گئی اہم پریس کانفرنس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
ان کے ریمارکس کا حوالہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے حکام کے ساتھ منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا ہے جس میں وزیر نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ داسو حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کو حوالے کیا جائے جس میں پانچ چینی شہریوں سمیت 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے پیش نظر وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹی ٹی پی نے بشام دہشت گردانہ حملہ چینی شہریوں پر افغانستان کے اندر سے کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “پاکستان نے باضابطہ طور پر افغانستان کی عبوری حکومت سے کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت کو گرفتار کرنے کی درخواست کی ہے۔”
گزشتہ 2 سالوں کے دوران، اسلام آباد نے افغانستان کے اندر کالعدم ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر کابل کو بارہا اپنے سنگین تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
یہ دہشت گرد پاکستان کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں اور پاکستانی حدود میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے مسلسل افغان سرزمین کا استعمال کرتے رہے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران نیکٹا کے سربراہ طاہر رائے نے انکشاف کیا کہ بارود سے بھری گاڑی جس نے چینی شہری کو لے جانے والی بس کو ٹکر ماری تھی وہ جاپان کی تھی اور افغانستان کے راستے پاکستان پہنچی تھی۔
اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ اس معاملے میں اب تک 11 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
بیجنگ میں اپنی پریس کانفرنس کو جاری رکھتے ہوئے، چینی دفتر خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے دہشت گردی کی لعنت کو انسانیت کا “مشترکہ دشمن” اور علاقائی ترقی اور استحکام کے لیے ایک ٹیومر قرار دیا۔
انہوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ چین خطے کے ممالک سے انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے، دہشت گرد تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، ان کی افزائش گاہ کو ختم کرنے اور تمام ممالک کی مشترکہ سلامتی اور ترقیاتی مفادات کا تحفظ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
