اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پاکستانی حکومت سے اسٹیشنری اشیاء بشمول کتابوں، قلم وغیرہ پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ۔
محکمہ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ قرض دہندہ نے حکومت سے کتابوں، قلم، کاغذ، سٹکی نوٹ پیپر، کارڈ بورڈ اور دیگر اسٹیشنری اشیاء پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا کہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام کل وزیراعظم کو مالی سال 2024-24 کے بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔ مالی سال 2024-25 کی بجٹ تجاویز کے مطابق، پاکستان میں مرحلہ وار سیلز اور انکم ٹیکس پر چھوٹ ختم کرنے کا امکان ہے۔
حکومت ٹریکٹرز اور کیڑے مار ادویات پر سیلز ٹیکس لگانے پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے ممکنہ طور پر ان ضروری زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
فی الحال، سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول کے تحت، کیڑے مار ادویات اور ان کے فعال اجزاء جو محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے ذریعے رجسٹرڈ ہیں انکو سیلز ٹیکس میں چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔
اس سے قبل پیر کو آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کے بعد ایک باضابطہ بیان جاری کیا۔ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسلام آباد نے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے نئے قرضے کے پروگرام کی درخواست کی ہے۔
آئی ایم ایف کے وفد نے مشن چیف نیتھن پورٹر کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا اور 13 مئی سے 23 مئی تک ملک کی معاشی بہتری پر بات چیت کے لیے وسیع مذاکرات کئے۔
بیان میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ پاکستانی حکومت ریونیو بڑھانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور مراعات یافتہ شعبوں سے منصفانہ ٹیکس وصولی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ مشن نے پاکستان کو پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا یقین دلایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی مدد سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی۔
پاکستان نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ ایگریمنٹ کے تحت طے شدہ اہداف کو کامیابی سے پورا کر لیا ہے جو کہ آئندہ نئے قرضہ پروگرام کو سپورٹ کرے گا۔
