نئی دہلی: بھارت میں ہونے والے عام الیکشن کے حوالے سے بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے کیے گئے اکثریت کے دعوے دھڑام ہو گئے جب کہ الیکشن میں اپوزیشن اتحاد کو غیر معمولی کامیابی مل رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی عام انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اپوزیشن اتحاد انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسو الائنس ، حکمراں اتحاد کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر حیران کن کامیابیاں حاصل کررہا ہے جب کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اکثریت حاصل کرنے کے دعوے محض سیاسی بڑھکیں ثابت ہو رہی ہیں۔
بھارتی میڈیا میں آنے والی رپورٹس سے بھی یہی ثابت ہو رہا ہے کہ عوام نے اس بار مودی سرکار کو پہلے سے کم ووٹ دے کر اس کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے ناکام حکومت ثابت کردیا ہے۔
بھارتی ایوان زیریں کے انتخابات میں ہندو انتہا پسند حکمراں جماعت بی جے پی ماضی کی طرح نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم سے انتخابی میدان میں اتری تھی جب کہ دوسری جانب اپوزیشن کے 37 جماعتی اتحاد انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسو الائنس کی قیادت کانگریس کی جانب سے کی جا رہی تھی۔
ایوان زیریں کے انتخابات کے ابتدائی نتائج سے پتا چل رہا ہے کہ کانگریس کی زیر قیادت اپوزیشن کا انتخابی اتحاد حیران کن طور پر غیر معمولی طور پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ نشستیں لے رہا ہے اور اس نے اب تک 232 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔
دوسری طرف تاحال موصول نتائج کے مطابق مودی سرکار کے انتخابی اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کو صرف 292 نشستیں مل سکی ہیں جب کہ مودی کی جانب سے 400 سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ زمیں بوس ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عام انتخابات مکمل ہونے کے بعد ایگزٹ پولز میں مودی سرکار کے اتحاد کی بہت بڑے مارجن کے ساتھ کامیابی کی پیش گوئی کی گئی تھی جب کہ مودی کا حامی میڈیا بھی قبل از وقت ہی حکومتی کامیابیوں کا قصیدہ گو تھا، تاہم جوں جوں انتخابی نتائج سامنے آ رہے ہیں، اس سے مودی کے حامی میڈیا اور دیگر ذرائع کے دعوے غلط ثابت ہوتے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت میں ایوان زیریں (لوک سبھا) کی مجموعی 543 نشستوں میں سے 272 سیٹیں جیتنے والی جماعت حکومت بنانے کی اہل ہوگی جب کہ گزشتہ انتخابات (2019ء میں) اپوزیشن اتحاد نے صرف91 سیٹیں جیتی تھیں، جس اس بار بڑھ کر اب تک 232 تک پہنچ گئی ہیں۔ اسی طرح گزشتہ الیکشن میں مودی سرکار کے اتحاد نے 352 نشستیں جیتی تھیں، جو اس بار کم ہوکر اب تک 292 تک پہنچ سکی ہے۔
دوسری جانب حکومتی جماعت کے اتحاد کی نشستوں میں کمی اور دعووں کے برعکس نتائج کی وجہ سے بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی اور منگل کے روز انڈیکس 4378 پوائنٹس سے گر کر 72 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آ گیا تھا۔ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں یہ گراوٹ گزشتہ 4 برس میں سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
