اسلام آباد: پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی آئی کے بانی نے پارٹی کے سینئر رہنما اسد قیصر کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے جس مشترکہ مسائل کے حل اور اپنے ماضی کے اختلافات کو دور کرنے پر بات چیت گئی۔
عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کو ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور یہ پیغام جے یو آئی کے سربراہ تک پہنچا دیا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے دونوں جماعتوں کے درمیان مسائل کے حل کے لیے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر کی سربراہی میں3 رکنی کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے۔
یہ کمیٹی ان کے تعاون کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرے گی ، کسی بھی منصوبے کو حتمی شکل دینے سے پہلے، دونوں فریق دیگر نکات پر متفق ہوں گے ۔
طے پانے کے بعد عمران خان اور مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف متحدہ محاذ کے لیے حتمی شکل دیتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔
یاد رہے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے 2 اپریل کو پی ٹی آئی نے ایک “عظیم اپوزیشن الائنس” تشکیل دیا تھا جس کی قیادت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کریں گے ،اس سلسلے میں اپوزیشن کی 5 جماعتوں کا اجلاس ہواتھا ۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان، جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر اختر مینگل، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے ہی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی کال دے رکھی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے گرینڈ اپوزیشن الائنس میں شامل ہونے کے بعد پی ٹی آئی پارٹی کے ساتھ مل کر محمود خان اچکزئی کی قیادت میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرے گی اور متحد ہو کر آگے بڑھے گی۔
جماعت اسلامی کو بھی اتحاد میں اہم مقام حاصل ہونے کا امکان تھا۔
