مقبوضہ بیت المقدس:قابض اسرائیلی فوج نے غزہ پر وحشیانہ بمباری کرکے 200 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صہیونی فوج نے غزہ سے اپنے 4 یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کے لیے وحشیانہ بم باری کی، جس میں 200 سے زیادہ فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسطی علاقے دیرالبلح میں نصیرات کیمپ پر پے در پے حملے کیے، جس میں 210 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی وہ گئے۔قابض فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کارروائی میں دیرالبلح آپریشن میں 4 اسرائیلی یرغمالیوں کو بازیاب کرایا ہے اور چاروں اچھی صحت کے ساتھ ملے ہیں، اس آپریشن میں ایک اسرائیلی فوجی افسر بھی ہلاک ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے 200 سے زیادہ فلسطینیوں کی شہادت کو نظر انداز کرتے ہوئے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے دیرالبلح آپریشن میں اسرائیلی فوج کی معاونت کی ہے۔
دریں اثنا حماس نے 8 ماہ بعد 4یرغمالیوں کی رہائی کو اسرائیل کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن میں امریکی مدد نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ امریکا اسرائیل کے جنگی جرائم میں برابر کا شریک ہے۔
اُدھر غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی پابندیوں کے باعث زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ زخمی زمین پر بکھرے پڑے ہیں اور طبی عملہ سامان کی قلت کے باوجود ان کی زندگی بچانے کے لیے کوشاں ہے۔
یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی کو 8 ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں اور قابض فوج کے حملوں میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 39 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جب کہ ہزاروں دیگر زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں جنگی جرائم کے مرتکب اسرائیل نے غزہ کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔
