لاہور ( اسپورٹس ڈیسک ) صوبائی اسپورٹس ڈائریکٹریٹ میں کوچز کی تعیناتیوں میں مبینہ طورپر من پسند افرادکو لینے کی وجہ سے اس لسٹ کو چھپایا جارہا ہے جبکہ بعض کوچز نے اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کیلئے رابطے شروع کردیے ہیں کیونکہ بقول ان کے نہ تو ڈائریکٹریٹ نے کوئی انٹرویو لیے ہیں اور نہ ہی کسی کو آگاہ کیاہے جبکہ انہیں سائیڈ لائن کیا گیا ہے اسی بناء پر وہ عدالت سے کوچزکی تعیناتیوں میں نانصافی کے خلاف رجوع کرینگے، اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ذرائع کے مطابق ڈیلی ویج بنیادوں پرکام کرنے والے مختلف کھیلوں کے کوچز جو کہ پشاوراسپورٹس کمپلیکس اور حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں کام کررہے تھے اوران کی تعداد 54کے قریب تھی کی تعیناتی کا مسئلہ گذشتہ سال جولائی سے آرہا تھا کیونکہ سابق ڈی جی اسپورٹس خالد محمود نے انہیں برطرف کیا تھا جبکہ ان میں بیشتر کوچزمختلف کھیلوں سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اسپورٹس ڈائریکٹریٹ آتے رہے ہیں ، نئی حکومت کے آنے کے بعد ان کی تعیناتیوں کیلئے کوچز کے رابطوں کے بعد حال ہی میں کوچز کی تعیناتی کا پراسیس بھی شروع کیا گیا ، اور کوچز کے نام فائنل کردیے گئے ہیں تاہم کوچز کے احتجاج کے پیش نظر لسٹ کو چھپایا جارہا ہے۔اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ذرائع کے مطابق 54 کے بجائے 44 کوچز کولیا گیا ہے جن کی کاغذات کی ویری فیکیشن بھی نہیں کی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں انٹرویو لئے گئے لیکن اس میں اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کے بعض اعلی افسران کی پسند ناپسند کی بنیاد پر تعیناتیاں بھی کی گئی ہیں جس کی بناء پر کھیلوں کے مختلف کوچز اب اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کیلئے رابطوں میں مصروف عمل ہیں ان کے مطابق اسپورٹس ڈائریکٹریٹ کے افسران کی من پسند لسٹ کو فائنل کیا گیا ہے اور ابھی صرف اس مقصد کیلئے چھپایا جارہا ہے کہ اس میں سیاسی بنیادوں پربھی کوچز لیے گئے ہیں ۔