دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خطوط کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ حکومت پاکستان کے پاسپورٹس اجرا اور امیگریشن معاملات وزارت داخلہ سے متعلق ہیں، بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ لینے والے افراد پر پاسپورٹ کی پابندی کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ کوئی ردعمل نہیں دے گا، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے پلان پر عملدرآمد جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 11 جون 1991 بھارت نے 32 کشمیریوں کو ںے دردی سے قتل کر دیا تھا، آج تک وہ کشمیری انصاف کے منتظر ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان خطوط کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا، ہندوستانی میڈیا ہمیشہ سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے، وزیراعظم شہباز کی جانب سے نریندرمودی کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر ٹوئٹ کے ذریعے مبارک باد دی جا چکی ہے۔ حکومت کے لیے رسمی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی دوسرے ملک کے حکمران کو منتخب ہونے پر مبارک باد دے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ اور ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈی ایٹ وزرائے خارجہ کانفرنس میں شرکت کی، کانفرنس میں فلسطین کی صورتحال پر بات کی گئی، اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی ہے، غزہ میں ان کنڈیشنل سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کو فوری واپس بھیجنے مطالبہ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ سوئٹزرلینڈ کی طرف سے پاکستان کو 15 اور 16 جون کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی ہے تاہم پاکستان اپنی کچھ مصروفیت کی وجہ سے کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ پاکستان دنیا میں قیام امن کے لیے سب سے آگے ہے۔
