اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستانی تاریخ کا آخری پروگرام ہوگا۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جب ہم نے 2022ء میں حکومت سنبھالی تو پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا، جس کے لیے نواز شریف اور آصف زرداری کی رہنمائی حاصل تھی۔
انہوں نے کہا کہ ملک آج معاشی مشکلات سے باہر آ رہا ہے اور ترقی و خوش حالی کے راستے پر سفر شروع ہو چکا ہے۔ یہ سفر ملکی اشرافیہ سے قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔ عام انتخابات کے بعد حکومت سنبھالتے ہی کام کا آغاز معیشت سنبھالنے کے اقدامات سے کیا، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح 38 فی صد سے کم ہو کر 12 فی صد تک پہنچی۔ اسی طرح قرضوں پر 22 فی صد شرح سود کم ہو گئی اور اب یہ 20 فی صد پر آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔
قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہماری موجودہ حکومت کو آج 100 دن مکمل ہوئے ہیں، ایک روز قبل ہی پیٹرول کی قیمت کم کی گئی، جس سے مہنگائی سے ستائے عوام کو کچھ ریلیف ضرور ملے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کو یاد کرکے رونے سے فائدہ حاصل نہیں ہوگا، ہم ماضی سے سبق سیکھ کر ملک کا کھویا ہوا مقام واپس لائیں گے۔ قربانی اور ایثار کے جذبے کے ساتھ چلیں گے تو کچھ ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جن اداروں سے عوام کی خدمت نہیں ہو رہی، انہیں ختم کردیں گے۔ پی ڈبلیو ڈی جیسے اداروں میں 50 فی صد سے زیادہ کرپشن کی نذر ہوتے ہیں، ایسے ادارے بدعنوانی کی آماجگاہ بن چکے ہیں، انہیں ختم کرنا اب ہماری ذمے داری ہے۔ ہم قوم پر بوجھ بننے والے اور کرپشن کا گڑھ بننے والے اداروں کو ختم کریں گے،اس کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی 100 فی صد ڈیجیٹائزیشن کی ذمے داری بین الاقوامی شہرت یافتہ کمپنی کو دی ہے۔ ایف بی آر سے نااہل لوگوں کو علیحدہ کردیا ہے۔ میرا وعدہ ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ملکی تاریخ کا آخری پروگرام ہوگا۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نےصنعتوں کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ساڑھے 10 روپے کی کمی کی ہے، جس سے صنعتوں پر 200 ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا، وفاقی حکومت کا اچھا بجٹ دینے سے اسٹاک مارکیٹ پر مثبت اثر ہوا، جس سے انڈیکس نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک سے امیر اور غریب کا فرق ختم ہو جانا چاہیے، یہاں اشرافیہ کا طرز زندگی شاہانہ ہے اور ٹیکس صرف تنخواہ دار پر لگ رہا ہے،۔ گزشتہ ماہ سمندر پار پاکستانیوں نے 3 ارب ڈالرز کا زرمبادلہ وطن میں بھجوایا۔
