ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اداروں کو نفع بنیاد پر چلانے کی ذمے داری ارباب اقتدار کی ہے ،جاوید قصوری

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کی مراعات میں اضافے کی ترمیم سمیت ٹیکسز سے بھرپور وفاقی بجٹ کی منظوری قابل مذمت ہے، حکمرانوں نے اپنی مراعات میں تو اضافہ کر دیا لیکن عوام کا خون نچوڑ لیا ہے، قومی اداروں کی نجکاری، مہنگائی، بے روزگاری، تنخواہوں، پنشنوں اور اُجرتوں میں عدم استحکام، ملازمین کی برطرفیوں اور آئی ایم ایف کے ایماء پر حکومت کے مزدور دشمن اقدامات کے خلاف جماعت اسلامی نے ہمیشہ آواز کو بلند کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1991ء سے لے کر اب تک ریاست کے 173 کاروباری اداروں کو فروخت کیا جاچکا ہے، اس پورے عمل سے حکومتوں کو 650 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں، حکومت اب تک بینک، توانائی، ٹیلی کمیونی کیشن، آٹو موبائل، سیمنٹ، کیمیکلز، انجینئرنگ، فرٹیلائزر، گھی، معدنیات، چاول، روٹی پلانٹس، ٹیکسٹائل، سیاحت سے متعلق اداروں کو فروخت کرچکی ہے جو بھی حکومت بر سر اقتدار آئی، اس نے اپنی نااہلی اور ناکامی کو چھپانے کے لیے ماضی میں منافع بخش اداروں کی نجکاری کو پلان ہی بنایا، پی آئی اے کی طرح بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بھی بدتر ین حالات سے دوچار ہیں، نیشنل گریڈ سے مجموعی طور پر 34 فیصد بجلی یا تو چوری ہو جاتی ہے یا پھر ضائع اور اس بل بھی عام صارف کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ہر برسر اقتدار جماعت اور مقتدرہ نے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش دانستہ طور پر نہیں کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک میں صنعتیں لگا کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاتے لیکن اس کی بجائے ملک کے بڑے اداروں ریلوے، واپڈا، پی آئی اے، سوئی گیس اور اسٹیل مل میں سیاسی بنیادوں پر ضرورت سے زائد بھرتیاں کر دی گئیں جس کی وجہ سے قومی فخر کے یہ ادارے ملک کے لیے سفید ہاتھی بنتے گئے اور قومی دولت کا ایک بڑا حصہ ان اداروں کو زندہ رکھنے کے لیے خرچ کیا جاتا رہا۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے کہا کہ آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق ہر حکومت خواہ وہ سیاسی ہو یا آمرانہ، کی یہ کوشش رہی ہے کہ قومی اداروں کی نجکاری کی جائے، قومی اداروں کو نفع بخش بنیادوں پر چلانے کی سب سے بڑی ذمہ داری ارباب اقتدار اور اختیار کی ہے۔ ماضی میں یہی ادارے ملک میں روزگار، ٹیکس اور قومی پیداوار میں اضافے کا اہم حصہ رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں