فیصل آباد (نمائندہ جسارت) اسلامی جمعیت طلبہ کے ڈویژنل ناظم مرزا عمیس عزیز نے کہا ہے کہ منشیات فروش بلا خوف و خطر اپنا دھندہ کرتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں، ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے، یونیورسٹیاں منشیات فروشوں کا اولین ٹارگٹ ہوتا ہے، حالیہ دنوں میں جس طرح ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال کے ہوشربا انکشافات منظر عام پر آئے، اس نے حکومت اور سب اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتی ہے، اس کے بہترین تربیتی عمل کو آسان بنانا اور حکومتی سطح پر پالیسیاں مرتب کرنا حکومتوں کا فرض ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نوجوانوں کے مسائل کے حل کے حوالے سے دعوے تو بہت کیے جاتے رہے ہیں لیکن حقیقت میں جس انداز میں کام کرنے کی ضرورت تھی، کام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ غیر سرکاری ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 89 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں، جبکہ 700 افراد روزانہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ منشیات سے مرنے والوں کی شرح دہشت گردی سے مرنے والوں سے بھی کئی گنا زیادہ ہے، حکومت اور متعلقہ ادارے محض کاغذی کارروائی کرتے ہیں۔