غزہ /تل ابیب /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک/تل ابیب) درندہ صفت اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹے کے دوران شجاعیہ، رفح، جبالیہ اور شمالی غزہ سمیت50 مقامات پر فضائی حملے کیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق خان یونس میں رہائشی عمارتوں اور نصیر اسپتال پر گولہ باری سے 58 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، جس میں متعدد افراد کی حالت نازک ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ شجاعیہ میں کئی روز سے جاری فوجی آپریشن میں شہدا کی تعداد 100 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ 7 اکتوبر سے جاری جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 38 ہزار سے زاید فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ دوسری جانب فلسطینی گروپوں کی شدید مزاحمت جاری ہے اور اس دوران کئی اسرائیلی فوجی جہنم واصل ہوچکے ہیں، حماس سمیت دیگر مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج کے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹر کو بھی نشانہ بنایا۔غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری حملوں میں5 صحافی بھی شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے پچھلے 24 گھنٹے میں المغازی، خان یونس، شجاعیہ اور رفح شہر پر حملے کیے۔ اسرائیلی حملوں میں 5 صحافی اور انروا کے ایک رضاکار سمیت 29 افراد شہید ہوئے۔ فلسطینی جہادی تحریک حماس اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے غزہ میں پیشگی جنگ بندی کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات سے متعلق امریکی تجویز کو قبول کرلیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ حماس اپنے اس مطالبے سے دست بردار ہوگئی ہے کہ پہلے اسرائیل مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کرے، پھر قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ بین الاقوامی سطح پر ثالثی کوششوں میں شامل فلسطینی عہدیدار نے بتایا کہ اگر اسرائیل یہ تجویز قبول کرلے تو فریم ورک معاہدہ ہوجائے گا جس کے نتیجے میں غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 9 ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اسرائیل کی مذاکراتی ٹیم میں شامل اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب معاہدہ طے پانے کا حقیقی موقع ہے کیونکہ اس سے قبل اسرائیل جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس کی تمام شرائط کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان نے خبر پر فوری طور پر اپنا مؤقف نہیں دیا، تاہم ان کے دفتر سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ کہ بات چیت اگلے ہفتے بھی جاری رہے گی اور فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی باقی ہیں۔ حماس کے رہنما نے کہا کہ نئے منصوبے کے تحت ثالث ممالک غزہ میں عارضی جنگ بندی، امداد کی فراہمی اور اسرائیلی فوجیوں کے انخلا کی ضمانت دیں گے جب کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے بالواسطہ بات چیت جاری رہے گی۔ حماس نے بیان میں کہا کہ غزہ میں کسی بھی غیر ملکی فوج کو بھیجنے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں، غزہ کا انتظام چلانا خالصتاً فلسطینی معاملہ ہے اور فلسطینیوں کے سوا کسی دوسرے کو ہمارا سرپرست بننے یا باہر سے ہم پر مسلط ہونے کی اجازت نہیں، فلسطینی عوام بیرون ملک سے کسی کو متوازی حکومت کے طور پر بھی قبول نہیں کرتے۔فلسطینی جہادی تنظیم حماس نے غزہ جنگ میں اپنے سے کئی گنا طاقتور ملک اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔ اسرائیلی عوام نے غزہ جنگ میں حماس کے ہاتھوں اپنے ملک کی شکست تسلیم کرلی اور 68 فیصد اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ جنگ میں ’فتح‘ سے بہت دور ہے۔ اسرائیلی میڈیا چینل 12 نیوز کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق دو تہائی اسرائیلی عوام کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رکھنے کے بجائے یرغمالیوں کی واپسی زیادہ ضروری ہے۔ 67 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اس وقت جنگ کو جاری رکھنے سے زیادہ اہم یرغمالیوں کی واپسی ہے۔ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی تجویز قبول کرنے کے بعد گزشتہ روز موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے قطر کا دورہ کرکے معاہدے کے لیے بات چیت کی ہے۔ جنگ اب تک ختم نہ ہونے کی کیا وجہ ہے، اس سوال کے جواب میں 54 فیصد افراد نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاست کو اس کی وجہ قرار دیا۔ 34 فیصد نے کہا کہ اس کی وجہ آپریشنل معاملات ہیں۔ سروے میں 68 فیصد اسرائیلیوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ جنگ میں فتح سے بہت دور ہے جس کا نیتن یاہو نے اپنے عوام سے وعدہ کیا تھا۔ سروے سے پتہ چلا کہ نیتن یاہو کی اسرائیل میں مقبولیت تقریباً ختم ہوکر رہ گئی ہے اور اس وقت وہ ایک ناپسندیدہ ترین شخصیت ہیں۔ دو تہائی سے زیادہ 68 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ نیتن یاہو کی کارکردگی خراب ہے۔43 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ جلد از جلد نئے انتخابات کرائے جائیں جبکہ 29 فیصد نے کہا جنگ ختم ہوتے ہی کرائے جائیں۔