مقبوضہ بیت المقدس:قابض اسرائیلی فوج نے فلسطین میں اسکولوں اور پناہ گزیں کیمپوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس میں مزید درجنوں فلسطینی شہید اور 100 کے قریب زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صہیونی فوج کا فلسطین کے مختلف علاقوں خصوصاً غزہ کے اسکولوں اور پناہ گزیں کیمپوں پر زمینی و فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں وسیع تباہی کے نتیجے میں پناہ لیے ہوئے بے گھر فلسطینی بے سر و سامانی کی حالت میں رہنے پر مجبور ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پانچ اسکولوں پر وحشیانہ بمباری کی، جس میں وہاں پناہ لیے ہوئے درجنوں نہتے فلسطینی شہید ہو گئے جب کہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 100 بتائی جاتی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی شہری دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز اسرائیلی طیاروں کے نصیرت پناہ گزیں کیمپ پر اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والے اسکول کو اپنی بمباری کا نشانہ بنایا، جس میں 17 افراد شہید اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
اس سے پہلے گزشتہ ہفتے 9 جولائی کو خان یونس کے الاودا نامی اسکول کے قریب پناہ گزیں کیمپوں کو اسرائیلی فوج نے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا، جس میں 29 فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔ علاوہ ازیں چند روز قبل ہی غزہ سٹی میں ایک گرجا گھر کے تحت چلنے والی ہولی فیملی اسکول کو بھی اسرائیلی فوج نے فضائی حملے کرکے تباہ کردیا، جس میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
واضح رہے کہ عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی فوج فلسطین خصوصاً غزہ میں اپنی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، اس دوران غزہ کو تباہ کرکے ملبے کا ڈھیر بنائے جانے کے نتیجے میں اسپتالوں، اسکولوں اور کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے افراد کو بھی وحشیانہ بمباری کرکے شہید کیا جا رہا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر مقامات کو حماس کے مجاہدین کی موجودگی کا الزام دے کر دہشت گردی کا نشانہ بنائے جا رہی ہے ، جب کہ عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل غزہ میں اب تک 400 اسکولوں کو بمباری سے تباہ کرچکا ہے، جب کہ جون میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے رپورٹ جاری کی تھی کہ اسرائیل کی جانب سے شہری عمارتوں بشمول اسکولوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
