ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

ٹیکس ریفنڈ میں 800 ارب کا فراڈ پکڑا گیا، ٹریبونلز اور عدالتوں میں 3.2 کھرب سے زائد کے کیسز زیرالتوا

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ 4 مہینوں کے دوران ٹیکس ریفنڈ میں 800 ارب روپے کا فراڈ پکڑا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر میں اصلاحات اور ادارے کو ڈیجیٹائز کرنے کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں وزیراعظم نے ٹیکس سے متعلق کیسز کو جلد نمٹانے کے اپیلٹ ٹریبونلز کی تعداد بڑھا کر 100 کرنے اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ ڈیش بورڈ تیار کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

وزیراعظم نے دوران اجلاس ہدایت کی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فراڈ ڈیٹیکشن اینڈ انویسٹی گیشن  کے شعبے کو جدید طرز پر لاتے ہوئے ڈیجیٹائز کیا جائے اور پاکستان ریونیو آٹومیشن اتھارٹی میں اصلاحات کے حوالے سے جلد از جلد تجاویز تیار کرکے پیش کی جائیں۔

اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیلز ٹیکس ریفنڈ ادا کرنے کے معاملے میں کوئی کوتائی اور تاخیر قابل برداشت نہیں ہوگی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ڈیجیٹائز کرنے کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 4 ماہ میں ٹیکس ریفنڈ میں 800 ارب روپے کا فراڈ پکڑا گیا ہے۔ ٹیکس ریفنڈ کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ ایف بی آر میں اصلاحات لاکر ہی محصولات بڑھانا  ممکن ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی اصلاحات کے  حوالے سے کئی پروگراموں میں غیر ضروری تاخیر بہت افسوس ناک امر ہے۔

دوران اجلاس وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف ٹریبونلز اور عدالتوں میں 3.2 کھرب روپے کے 83 ہزار 579 کیسز التوا کا شکار ہیں جب کہ 4 مہینوں کے دوران مختلف عدالتوں نے لگ بھگ 44 ارب روپے کے 63 مقدمات نمٹا دیے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیکس دینے کی استطاعت رکھنے والے 49 لاکھ افراد کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غریب طبقے پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر 49 لاکھ افراد میں سے دولت مند اور سرمایہ دار طبقے کو ترجیحی بنیاد پر ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں