برلن: مایہ ناز قومی کھلاڑی شعیب ملک نے کہا ہے کہ پاکستانی ٹیم میں سرجری کی بات تو اس وقت ہونی چاہیے جب ہمارے پاس بہت کچھ موجود ہو جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔ جوکھلاڑی ہیں، یہی بہترین ہیں۔ ان میں آپ کیا تبدیلی لائیں گے؟
کھیلوں سے متعلق ویب سائٹ کو جرمنی سے انٹرویو دیتے ہوئے شعیب ملک کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں سے ذمے داریاں واپس لے لینے سے مسائل حل نہیں ہو سکتے، جب کسی کو لایا جاتا ہے تو اسے وقت بھی پورا دینا چاہیے۔ معاملات بہتر کرنے کا یہی بہتر طریقہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گیری کرسٹن کا وائٹ بال ہیڈ کوچ اور جیسن گلیپسی کا ٹیسٹ میں ذمے داریاں سنبھالنا پاکستان کرکٹ کے لیے بہتر فیصلہ ہے۔ سینئر کھلاڑیوں کو لیگز کے این او سی جاری نہ کرنے کے حوالے سے شعیب ملک کا کہنا تھا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے کیوں کہ ملک سب سے پہلے ترجیح ہونی چاہیے،البتہ پلیئرز کا مالی نقصان بھی نہیں ہونا چاہیے۔
