ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

عوام کاحق لینے کیلیے جماعت اسلامی کااسلام آباد میں پڑاؤ،کارکنان تیاررہیں ‘کسی بھی وقت آگے بڑھنے کی کال دے سکتا ہوں‘ حافظ نعیم

جماعت اسلامی کے دھرنے کو ناکام بنانے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے کارکنان کو سیکورٹی اہلکار گرفتار کرکے لے جارہے ہیں

راولپنڈی/اسلام آباد( اسٹاف رپورٹر/نمائندہ جسارت)مہنگائی‘ بجلی قیمتوںمیںاضافے ‘آئی پی پیزمعاہدوں پرنظرثانی کیلیے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر اسلام آباد دھرنے کیلیے ملک بھر سے ہزاروںافراد اسلام آباد پہنچ گئے‘ اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے دھرنے کی کال کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں پولیس نے بدترین کریک ڈائون کرکے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ‘اسلام آباد میں سارا دن جماعت اسلامی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی ہوتی رہی‘ ضلعی انتظامیہ نے ڈی چوک جانے والے تمام راستے بند کریے اور اسلام آباد میں داخل ہونے والے تمام راستوں پر کنٹینرز لگا کر راستہ بند کردیا اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی یہ صورت حال دوپہر تک جاری رہی جس کے بعد جماعت اسلامی کے دھرنے کی اجازت نہ دینے کے بعد پولیس نے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ اسلام آبادڈی چوک میں دھرنا کے لئے جماعت اسلامی سرگودھا‘ فیصل آباد‘ لاہور اور دیگر شہروں کارکنوں کے بڑے قافلے جمعہ کے روز راولپنڈی اور اسلام آباد پہنچے کارکنوں کی ٹولیاں نعرے لگاتی ہوئیں جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہوگا کے نعرے لگائے، بجلی گیس تیل کی قیمتوں میں کمی کروظالمانہ ٹیکس واپس لو آئی پی پیزکے معاہدے ختم کرو‘ ڈی چوک پہنچیں اور بعد میں جماعت اسلامی کے اعلان کے مطابق کارکنوں کو فیض آباد پہنچنے کے لیے کہا گیا‘جماعت اسلامی کے دھرنے میں شرکت کے لیے بیرون شہر سے آنے والے قافلوں میں نوجوانوں کے علاوہ بزرگ شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل تھی جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت پنجاب بھر سے جماعت اسلامی کے دو ہزار سے زائد کارکن گرفتار کرلیے گئے۔حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش اور پکڑ دھکڑ کے بعد جماعت اسلامی نے حکمت عملی تبدیل کردی اور 3 مقامات پر دھرنوں کا اعلان کردیا۔ سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف نے کہا کہ پارٹی کی قیادت نے تین مقامات پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مری روڈ راولپنڈی پر دھرنا دیا جائے گا جس کی قیادت جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی امیر العظیم کریں گے جبکہ ان کے ساتھ نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی اور صوبائی و ضلعی قیادت بھی شرکت کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ دوسرا دھرنا اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر دیا جائے گا جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کریں گے جبکہ ان کے ساتھ نائب امیر لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم، صوبائی اور اسلام آباد کی قیادت شریک ہو گی۔قیصر شریف نے بتایا کہ تیسرا دھرنا 26 نمبر چونگی پر ہو گا جس کی قیادت نائب امیر ڈاکٹر عطا الرحمن، پروفیسر محمد ابراہیم اور صوبائی قیادت کرے گی۔سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک جماعت اسلامی کے دھرنے جاری رہیں گے اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر جہاں رکاوٹ ہو گی وہیں دھرنا ہو گا۔ادھرراولپنڈی سے جماعت اسلامی کا ہزاروں افراد پر مشتمل قافلہ اسلام آباد جانے کے لیے روانہ ہوا تو پولیس نے انہیں لیاقت باغ پہنچنے پر آگے جانے سے روک دیا۔جماعت اسلامی کے کارکنان دھرنے میں شرکت کے لیے جیسے ہی لیاقت باغ پہنچے تو پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا اور سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی اور دیگر پولیس حکام لیاقت باغ پہنچ گئے۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے رہنماوں نے کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے اسٹیج سے اعلان کیا کہ پولیس افسران حفاظت کے لیے آئے ہیں جماعت اسلامی کے رہنماوں نے کہا کہ ظالمانہ ٹیکس کے خلاف احتجاج کے لیے ڈی چوک جانے دیا جائے اور اگر آگے نہیں جانے دیا گیا تو لیاقت باغ شاہراہ پر دھرنا دیں گے۔سی پی او راولپنڈی نے جماعت اسلامی کے رہنماوں سے کہا کہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دیں گے لہذا لیاقت باغ کے اندر کارکنوں کو لے جائیں تو بہتر ہے ۔جماعت اسلامی پاکستان کا دھرنا روکنے کیلیے پولیس نے مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن کے تحت متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔اسلام آباد میں دھرنے کیلیے پہنچنے والے قافلے سے پانچ کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ ڈی چوک سے دو کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔لاہور میں گزشتہ رات مختلف علاقوں میں 60 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ پولیس کے مطابق جماعت اسلامی کے متعدد کارکنوں کو بھی مختلف مقامات سے حراست میں لیا۔جنوبی پنجاب سے جماعت اسلامی کے پندرہ سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ اٹک میں بھی پولیس نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور بارہ سے زائد عہدیدار و کارکنان کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے ضلعی نائب امیر ناصر اقبال کو بھی گھر سے گرفتار کیا گیا لاہور میں پولیس نے جماعت اسلامی کے لیے 60 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔ پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے مارے جانے والے چھاپوں میں 110 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش اور پکڑ دھکڑ کے بعد جماعت اسلامی نے حکمت عملی تبدیل کردی اور اسلام آباد راولپنڈی میں چار مقامات پر دھرنے دیے‘ حکومت نے مزاکرات کی پیش کش کی ہے اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ‘ امیر مقام اور طارق فضل چوہدری حکومت کی جانب سے مزاکراتی ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں‘ جماعت اسلامی مشاورت کے بعد حکومت کی پیش کش کا جواب دے گی‘ دھرنا کب ختم ہوگا یہ فیصلہ بھی جماعت اسلامی مشاورت سے کرے گی‘جماعت اسلامی کے دھرنے کی کال پر ریڈ زون اور راولپنڈی سے دارالحکومت آنے والے راستوں کنٹینر لگاکر بند کردیا گیا۔ پنڈی میں میٹرو بس سروس بھی بند کردی گئی ہے‘جماعت اسلامی کی جانب سے مری روڈ راولپنڈی، زیرو پوائنٹ اسلام آباد، چونگی نمبر 26 اور لیاقت باغ کے باہر احتجاج جاری ہے۔ آئی ایٹ میں کارکنوں سے خطاب میں حافظ نعیم نے کراچی سے چترال تک دھرنوں کا اعلان کیا اور کہا کہ عوام کو ریلیف ملنے تک احتجاج جاری رہے گا۔راولپنڈی میں جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اورضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد جماعت اسلامی کو مری روڈ پر دھرنا جاری رکھنے کی اجازت مل گئی۔ مذاکرات میں ڈی سی، سی پی او اور آر پی او راولپنڈی سمیت سینئر حکام موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ دھرنا کے شرکا کو لیاقت باغ میں ہر سہولت دی جائے گی۔
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دھرنا کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ہم تھکنے والے ہیں نہ بکنے والے، کارکن تیار رہیں ِ،کسی بھی وقت آگے بڑھنے کی کال دے سکتا ہوں ، گرفتار کارکنان کی رہائی تک حکومت سے کسی قسم کے مذاکرت نہیں ہوں گے، مجھے اور میری پارٹی کو کچھ نہیں چاہیے ، میرے ملک کے کروڑوں باسیوں کو انصاف دو، عوام بلبلا رہے ہیں، حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی، آپ مفت بجلی، گیس، پیٹرول استعما ل کریں، مراعات بڑھائیں اور عوام کا خون نچوڑیں ایسا مزید نہیں چلے گا، آئی پی پیز کا دھندہ بند کرنا ہو گا، تنخواہ داروں پر ٹیکس کم کیا جائے، بجلی سستی کریں، تمام رکاوٹوں، گرفتاریوں اور فسطائی ہتھکنڈوں کے باوجود اسلام آباد پہنچے، ڈی چوک جاسکتے تھے، تصادم نہیں چاہتے، فی الحال لیاقت باغ بیٹھے ہیں، مذاکرت کا انحصار حکومتی سنجیدگی پر ہے، بااختیار کمیٹی کا اعلان کیا جائے، ہمارے مطالبات کوئی راکٹ سائنس نہیں، عوام کے لیے ریلیف چاہیے، جماعت کی کمیٹی کا اعلان کرنے جارہے ہیں، حکومتی کمیٹی سے پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہوجائے گا، طویل دھرنا دینے کے لیے تیار ہیں، مطالبات کی منظوری تک نہیں اٹھیں گے۔امیرجماعت نے کہا کہ لوگ گھروں کی چیزیں بیچ کر بل ادا کررہے ہیں، حالات کی سنگینی اس قدر ہے کہ گجرانوالا میں بھائی نے بھائی کو قتل کردیا، آئی پی پیز کے 80فیصد مالکان پاکستانی ہیں، ان سے بات کریں، معاہدوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، کچھ کو بند کرنا ہوگا،یہ حتمی مطالبہ ہے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مفت اور معیاری تعلیم ہر بچے کا حق ہے ، ہمیں یہ حق چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان مایوس ہوکر باہر جارہے ہیں، ظالم حکمران ملک کو بانجھ کرنا چاہتے ہیں ، نوجوان ہماری طاقت ہیں ، ان کو حق دو، روزگار دو۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں کا پروردہ طبقہ ملک پر مسلط ہے، جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے، ظالم اشرافیہ کو اپنی مراعات کم کرنا ہوں گی، یہ بتائیں ان حالات میں اپنے اخراجات میں اضافہ کیوں کیا؟انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کسی صورت ری الیکشن کی حمایت نہیں کرے گی، جب ایک پارٹی الیکشن جیتی ہے اور فارم 45موجود ہے توالیکشن کے غیرضروری مطالبہ میں قوم کو کیوں الجھایا جارہا ہے؟ پی ٹی آئی سے ہی ایسی باتیں آئیں تو جان لیں دال میں کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہے، ایسے مطالبات کرنے والے لیڈران قوم سے مخلص ہیں نہ اپنی پارٹی سے، یہ کسی اور کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض پارٹیوں کا مسئلہ الیکشن میں دھاندلی نہیں فارم 47میں حصہ ہے۔ امیر جماعت نے عوامی مطالبات کی منظوری تک دھرناجاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت کے تمام تر ہتھکنڈوں، گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے باوجود وفاقی دارلحکومت پہنچ گئے، عوام کے حقوق کی پرامن تحریک کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی گئی تو حالات کی ذمہ داری فارم47 سے مسلط حکمرانوں پر ہوگی۔ پلان بی کے مطابق مری روڑ پر تمام قافلے اکٹھے ہوں، آئند ہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا پرامن مزاحمت ہمارا آئینی و جمہوری حق ہے، حکومت ایک ہزار افراد کو گرفتار کرے گی تو 10 ہزار مزید آجائیں گے، دس ہزار کو پکڑا تو ایک لاکھ جمع ہوجائیں گے، دھرنا کے شرکا کا راستہ روکاگیا تواحتجاج پورے ملک میں پھیل جائے گا، حکمران جس قدر فسطائی ہتھکنڈے برتیں گے، ہمارا کام مزید آسان ہوتا جائے گا۔سیکرٹری جنرل امیر العظیم، نائب امراء لیاقت بلوچ، میاں اسلم، ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈاکٹر عطا الرحمن اور دیگر قائدین مختلف قافلوں کی قیادت کرتے ہوئے دھرنے میں شریک ہوئے اورمظاہرین سے خطاب کیا۔ امیر جماعت نے کہا اقتدار میں بیٹھے آئی پی پیز مالکان کو عوام کا مزید خون نچوڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔اپنی ذات کے لیے نہیں ، عوام کو حق دلانے کی جدوجہد کررہے ہیں، دھرناکے شرکاء اپنے عزیزواقارب، دوستوں کو بلا لیں ، پورے ملک کے عوام ہماری جانب امید سے دیکھ رہے ہیں،ہم انہیں ریلیف دلائیں گے۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاء سے کہا کہ نظم و ضبط برقرا ر رکھیں ، ہم پولیس سے ہرگز لڑائی نہیں چاہتے، پولیس بھی ہم سے نہ الجھے،امن برقرار رکھنا ہماری تحریک کی بنیاداول ہے، یاد رکھیں حکومت امن خراب کرنے اور توجہ بٹانے کی سازش کرے گی، اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے، قیادت موجود ہے، امیر کی اطاعت کریں، مشاورت سے فیصلے ہوں گے، سب کو عمل کرنا ہوگا۔امیر جماعت نے ـکہاٹیکسوں کو کم کرنا ہوگا، آئی پی پیر کو بند کرنا ہوگا ،جینا ہوگا مرنا ہوگا دھرنا ہو گا دھرنا ہوگا کے نعرے لگائے اورشرکاء کو تمام رکاوٹیں عبور کرکے اسلام آباد پہنچنے پر مبارکباد دی ۔ قبل ازیں امیر جماعت نے26 نمبر چونگی، ایکسپریس وے پرمظاہر ین سے خطاب کے لیے پہنچے تو ان کا پرجوش نعروں سے استقبا ل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نوجوانوں کے جماعت اسلامی پر اعتماد میں مزید اضافہ ہورہا ہے، ہم انہیں مایوس نہیں کریں گے ۔ ہم دھرنا طویل کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں ، طوالت کا انحصار حکومتی رویہ پر ہے، عوام کے لیے ریلیف کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے جماعت اسلامی کے دفاتر ، قیادت اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے مار کر ایک ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا ہے ، ہمارے راستے روکے گئے، ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اسلام آباد پہنچیں گے، پہنچ کر دکھا دیا، ثابت ہوگیا فسطائیت اور ظلم ہمارے راستے میں رکاوٹ نہیں ، ہم پوری یکسوئی سے جدوجہد کررہے ہیں ، جماعت اسلامی کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو پلان بی کے پہلے رائونڈ پر عملدرآمد ہوا ہے ، حکومت نے منتشر قوت کو یکجا کرکے ہمارا کام آسان کردیا۔

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں