
کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) یوکرین نے روس پر جوابی حملے کے دوران سیکڑوں روسی فوجیوں کو قیدی بنانے کا دعویٰ کردیا۔ یوکرینی فوج نے روس کے جنوب مغربی علاقے میں اہم پل تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق یوکرینی فوج کے ہاتھوں تباہ کیا گیا پل دریائے سیم پر بنا ہوا تھا،جس کے باعث کرسک علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیاہے۔ دوسری جانب یوکرین کے صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک کا کہنا ہے کہ روسی علاقوں میں دراندازی ماسکو کی جارحیت سے مختلف ہے،جس کا مقصد دفاعی حکمت عملی کے تحت دشمن کے توپ خانوں کو خاموش کرانا ہے۔ صدارتی مشیر کا کہنا تھا کہ یوکرین روس کے مغربی علاقے کرسک پر قبضہ کرکے شہر کو ہتھیانے میں دلچسپی نہیں رکھتا لیکن وہ روسی حملوں کو ناکام بنانے کے لیے حفاظتی پٹی بنانا چاہتا ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے 6 اگست کو کرسک میں سرحد پار سے حملہ کرنے کے بعد سے ایک ہزار 150 مربع کلومیٹر روسی علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ پوڈولیاک نے اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین کا ارادہ روسی فوجیوں کو پیچھے دھکیلنا ہے تاکہ توپ خانے اور میزائل حملوں کو یوکرینی علاقے تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ یوکرین کا مقصد روس کے فوجی نظام رسد اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا ہے۔ دراندازی کی نوعیت روس کے حملے سے مختلف تھی اور یہ اپنی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دفاعی جنگ تھی۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق یوکرین قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کر رہا ہے۔