نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں جونیئر ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے ساتھی ٹرینی ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے خلاف جاری ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا ۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہزاروں جونیئر ڈاکٹروں نے ٹرینی ڈاکٹر کے بہیمانہ قتل کے خلاف 17 اگست سے ہڑتال شروع کی تھی۔ اس دوران ڈاکٹروں نے محفوظ ماحول کی فراہمی اور ملزمان کے خلاف جلد از جلد قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ ملک بھر میں جاری ہڑتال میں ڈاکٹروں نے غیر ایمرجنسی کے مریضوں کے معاینے کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے، یہ مظاہرے اور کام چھوڑ ہڑتال اس وقت سامنے آئی، جب 9 اگست کو 31 سالہ خاتون ٹرینی ڈاکٹر کا آر کے کار میڈیکل کالج اور ہسپتال میں زیادتی کے بعد بہیمانہ قتل کیا گیا تھا۔ سیکورٹی اداروں نے ایک مشتبہ پولیس رضاکار کو گرفتار کیا تھا۔ سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ 23 سالہ طالبہ سے 2012 ء میں اجتماعی زیادتی و قتل کے بعد بننے والے قوانین کے باوجود بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی جاری ہے۔ دوسری جانب حکومت نے ڈاکٹروں کو ڈیوٹی پر واپس آنے کے لیے زور دیا ہے۔ حکومت نے کمیٹی تشکیل دی ہے، جو صحت کے پیشے سے وابستہ افراد کے لیے حفاظتی اقدامات کی تجویز دے گی۔آر کے کار میڈیکل کالج اور اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر انکت مہاتا کا احتجاج کے دوران کہنا تھا کہ ہماری غیر معینہ مدت تک ہڑتال اور دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔ مغربی بنگال کے 2بڑے ساکر کلبوں نے ڈاکٹروں سے اظہار یکجہتی کے لیے کولکتہ کی سڑکوں پر مارچ کیا اور ’ہمیں انصاف دو‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ریاست اڑیسا، نئی دلی اور مغربی ریاست گجرات میں بھی جونیئر ڈاکٹروں نے احتجاج کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔