ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

قرضوں اور سود ادائی کیلیے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے کا نیا قرضہ لینے کا منصوبہ

اسلام آباد:حکومت نے قرضوں اور سود ادائی کے لیے مزید ساڑھے 8 ہزار ارب روپے کا نیا قرضہ لینے کا منصوبہ بنا لیا۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ میں وزارت خزانہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے جاری مالی سال کے دوران قرضوں اور سود کی ادائیگی سمیت دیگر ضروریات کو پورا کرنے  کے لیے مقامی و غیر مقامی ذرائع سے ساڑھے 8 ہزار ارب روپے کا قرض حاصل کرنے کے لیے جامع منصوبہ بنایا ہے۔

وزارت خزانہ حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران 1039 ارب بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں اور 8736 ارب مقامی قرضوں پر خرچ ہوں گے۔ وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال میں 92 فیصد قرض مقامی ذرائع اور 8 فیصد بیرونی ذرائع سے حاصل کیا جائے گا۔

مقامی ذرائع سے قرض حاصل کرنے کے لیے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، اجارہ سکوک جاری کیا جائے گا، مقامی فنانسنگ کے لیے 3ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ کی مدت کے شارٹ ٹی بلز کا اجرا نہیں کیا جائے گا۔

رواں مالی سال کے دوران حکومت مرکزی بینک سے کوئی قرض نہیں لے گی۔ کلائمٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پروگرام کے تحت اے ڈی بی سے  40 کروڑ ڈالراور ویمن انکلوسیو فنانس پروگرام کے تحت 10 کروڑ ڈالر قرض لیا جائے گا۔

وزارت خزانہ کے مطابق ڈومیسٹک ریسورس موبلائزیشن پروگرام کے تحت 30 کروڑ ڈالر قرض حاصل کیا جائے گا۔رواں مالی سال ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا کمرشل قرض حاصل کیا جائے گا جب کہ عالمی مارکیٹ میں گرین بانڈز اور چائنیز مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرنے کا پلان بنایا گیا ہے۔چائنیز مارکیٹ میں رواں مالی سال 30 کروڑ ڈالر کے بانڈز ایشو کیے جائیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں