لاہور: مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ کے معاملے پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حکومتی اتحاد کے تحریری معاہدے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ معاہدے کے بقیہ نکات پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ بعض نکات پر فوری عمل درآمد جبکہ باقی نکات کے لیے ٹائم فریم دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ ن لیگ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ قانون سازی، بجٹ، اور پالیسیوں پر پیپلز پارٹی کو پیشگی اعتماد میں لیا جائے گا۔ دونوں جماعتوں نے ملک کے استحکام کے لیے مل کر چلنے پر اتفاق کیا۔
مزید یہ طے پایا کہ پنجاب کے وہ اضلاع جہاں پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے، وہاں ان کی مرضی کے افسران تعینات کیے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ن لیگ کے ارکان کے برابر ترقیاتی فنڈز دینے پر بھی اتفاق ہوا۔
ذرائع کے مطابق، دونوں جماعتوں کے رہنما اس اجلاس کی رپورٹ اپنی قیادت کو پیش کریں گے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا کہ پاور شیئرنگ پر ن لیگ کے ساتھ خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی اور دونوں اتحادی جماعتیں حکومت کو آگے لے کر چلنے کی خواہاں ہیں۔
حسن مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پاور شیئرنگ کے معاملات کا جائزہ لے گی، اور ایک ہفتے کے اندر معاملات کو حتمی شکل دے کر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت سے حصہ مانگ رہی ہے یا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے حکومت کو مشکلات میں ڈال رہی ہے۔
یاد رہے کہ تین روز قبل وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں پیپلز پارٹی نے شکوہ کیا تھا کہ پنجاب حکومت میں انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
