
لاہو ر(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے حکومتی معاہدہ کا فالو اپ جاری، 28 اگست کو ملک گیر تاریخی شٹر ڈاؤن ہوگا، تاجروں کی ہڑتال کی کال کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں، حقوق کے لیے پوری قوم کو یک جان ہونا پڑے گا، اسی صورت حکمرانوں کی لوٹ مار رکے گی۔ ن لیگ، پی پی اور اتحادیوں کو بتانا چاہتا ہوں، عوام کو ریلیف دینا پڑے گا، پنجاب میں دوماہ کے لیے 14روپے یونٹ کمی مونگ پھلی کا دانہ ہے، نواز شریف بادشاہ سلامت بن کر بجلی بل کم کرنے کے اعلان کے بجائے قوم کو بتائیں کیپسٹی چارجز کی مد میں کتنے روپے کھائے ہیں، صرف شریف خاندان اور ان کے منظور نظر افراد کی آئی پی پیز کے کیپسٹی چارجز ختم ہوجائے تو پورے ملک کے عوام کے لیے بجلی سستی ہوسکتی ہے۔ احسان یا خیرات نہیں،اصل لاگت کا تعین بجلی ٹیرف کم کیا جائے۔ منصورہ میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور ڈائریکٹر میڈیا سیل سلمان شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظالمانہ نظام اور مسلط طبقہ کی اجارہ داری ختم کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، عوام کو ریلیف دینے، نوجوانوں کو منظم کرنے اور کرپٹ سسٹم کے خلاف جدوجہد کے لیے جماعت اسلامی نے حق دو عوام کو از سر نو منظم کیا ہے۔ قومی ایجنڈا تشکیل دے کر رابطہ عوام مہم کا یکم ستمبر سے آغاز کررہے ہیں۔ امیر جماعت نے کہا سیاسی پارٹیوں میں مفادات کی لڑائی جاری ہے، کسی کو ایکسٹینشن کرانی ہے، کوئی نہ جیتی ہوئی سیٹیں حاصل کرنے کے لیے جوڑ توڑ کررہا ہے، عوام کو بجلی بلوں پر ریلیف دلانے سے لے کر آئی پی پیز اور آئی ٹی سیز کے تسلط کے خلاف کوئی بات نہیں کررہا۔ گیس کا بحران سر پر کھڑا ہے، بجلی بل بم بن چکے ہیں، تنخواہ دار ٹیکس بوجھ میں دب چکا ہے لیکن سیاسی پارٹیاں اقتدار کے لیے ازسر نو صف بندیاں کررہی ہیں۔ عوام نے رواں برس آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کی مد میں دو ہزار ارب دینے ہیں، ان آئی پی پیز کو بنانے اور چلانے والوں میں یہ ساری جماعتیں شامل ہیں۔ امیر جماعت نے کہا کہ پی پی، ن لیگ، ق لیگ اور پی ٹی آئی حکومتوں نے آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز کے علاوہ انکم ٹیکس میں بھی ہزاروں ارب کی چھوٹ دی۔ سب کی حکومتیں 40خاندانوں کے لیے ہزاروں ارب کی مراعات کا اعلان کرتی ہیں جبکہ عوام اور تنخواہ دار عذاب میں مبتلا ہیں۔ آئی پی پیز اپنی انوسٹمنٹ سے کئی گنا زیادہ وصول کرچکی ہیں، ناکارہ پلانٹ، ناانصافی پر مبنی اور ایکسپائری معاہدے ختم کیے جائیں، حکمران پارٹیاں اس لیے بات نہیں کرتیں کہ ساری شریک جرم ہیں۔ سب چپ ہیں مگر جماعت اسلامی خاموش نہیں رہے گی، ان کا پیچھا کریں گے، دھرنا دیا، اس کے بعد میں مسلسل جدوجہد کرہے ہیں۔امیر جماعت نے کہا کہ نام نہاد تاجر دوست حکومتی مہم تاجروں کوبراساں کرنے کے لیے ہے، ایف بی آر میں سیکڑوں ارب کی کرپشن ہے۔ تاجر ٹیکس دینے کے لیے تیار ہیں، سہل نظام متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کی بندش اور سست کرنے کے حکومتی ہتھکنڈوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا جاگیرداروں پر ٹیکس لگایا جائے۔ ملک میں سیاسی قیدی بنانے کا سلسلہ بھی ختم ہو۔ موجودہ مسلط پارٹیاں فارم 47کی پیداوار ہیں، ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے سامنے ہزار رکاوٹیں ہیں، جامع اصلاحات کے لیے قومی جدوجہد کا آغاز کررہے ہیں۔ حالیہ معاہدہ پر عملدرامد کے لیے بھی کاؤنٹ ڈاؤن جاری ہے، حکومت کے پاس اٹھائیس دن رہ گئے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی قیام پاکستان سے لے کر آج تک دین، ملک و ملت کے دفاع، نظریاتی تحفظ اور عوام کی خدمت کے لیے جو خدمات سرانجام دی ہیں کسی سے مخفی نہیں۔ قانون سازی، سیاسی مزاحمت، اخلاق و کردار کے عملی مظاہرہ، معاشرتی خرابیوں کے سامنے بند باندھنے کی جدوجہد میں بھی جماعت اسلامی سرفہرست نظر آتی ہے، تعلیمی اداروں میں معاشرتی برائیوں اور طلبا و تعلیم کی بہتری کی جدوجہد میں اسلامی جمعیت کا نمایاں و تاریخی کردار ہے، ہم نے لٹریچر کا مقابلہ لٹریچر، دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا۔ بنگلہ دیشں میں مکتی باہنی اور بھارتی افواج کے لیے لڑائی ہو یا حسینہ واحد کی 15 سالہ فاشسٹ حکومت کا مقابلہ، جماعت اسلامی نے خون سے تاریخ لکھی، اسی طرح پاکستان میں ظالمانہ نظام اور انگریزوں کے وفادار کالے انگریزوں اور چند خاندانوں کے تسلط کے خلاف جدوجہد میں بھی جماعت اسلامی ڈٹ کر کھڑی ہے، جماعت اسلامی کے یوم تاسیس کے موقع ہر ہم جماعت اسلامی کے تمام شہدا اور کارکنان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ علاوہ ازیںلاہور کے نجی ہوٹل میں منعقدہ اسکلز گالا ایکسپو سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نوجوان ہماری قوت اور مستقبل ہیں،پوری دنیا کو لیڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی فیصد آبادی 40 سال جبکہ پینسٹھ فیصد تیس سال کی عمر پر مشتمل ہے،کسی صورت مایوس نہیں ہوں گے۔77سالوں سے چند خاندانوں پر مشتمل قبضہ مافیا کی پالیسیوں کے باعث طلبہ اور یوتھ مایوس ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں میں انہی خاندانوں کے نمائندے موجود ہیں،یہی لوگ فوج کے جرنیل اور پیوروکریٹ بنتے ہیں ۔74فیصد نوجوان ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں ۔نوجوان ہماری امید نہیں یقین ہیں،بنو قابل کے تحت ملک بھر میں فری کورسز کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلائیں گے ،بین الاقوامی معیار کی آئی ٹی یونیورسٹی قائم کریں گے اور روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کوحاصل کرنے کے لیے لاکھوں لوگوںنے ہجرت کی،اپنا کاروبار،مکان،زمین چھوڑ دیا تاکہ وہ آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی بسر سکیں لیکن سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی وہی انگریز کا نظام غالب ہے،بیوروکریٹس،جرنیلز اور چند خاندانوں پر مشتمل اشرافیہ نے وسائل پر قبضہ کیا ہواہے،خود کو حاکم اور عوام کو خادم سمجھتے ہیں،مراعات اور وسائل کی بندربانٹ ہے۔اے آئی کا زمانہ ہے اور یہاں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث آئی ٹی انڈسٹری تباہ ہوچکی،ایسی قدغنوں سے ملک کا نقصان ہوگا۔نوجوان ،طلبہ،کسان،تاجر سے اتحاد کیا ہے،ظلم کے اس نطام کا خاتمہ ہوگا ، پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔اسکلزگالا میںملک بھر سے فری لانسرز کمپنیوں کے نمائندگان سمیت بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات شریک تھیں۔اس موقع پرفائونڈر سکلز گالا عائشہ زمان،فائونڈر Enablers ثاقب اظہر، نائب صدرالخدمت ڈاکٹر مشتاق مانگٹ، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف،ڈائریکٹر بنوقابل عمیر ادریس، ڈائیریکٹر ڈیجیٹل میڈیاو سی ای او بنوقابل سلمان شیخ اور ڈائریکٹر الخدمت رضاکارسنان اکبربھی موجود تھے۔