ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

امریکہ: مغربی کنارے میں تشدد پر ایک اسرائیلی تنظیم اور یہودی سیکیورٹی اہل کار پر پابندیاں

امریکہ نے بدھ کے روز ایک اسرائیلی غیر سرکاری تنظیم اور مغربی کنارے کےایک یہودی سیکیورٹی اہلکار پر پابندیاں نافذ کر دی ہیں، جو واشنگٹن کی جانب سے یہودی آباد کاروں کو ،جن پر وہ فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند تشدد کا الزام عائد کرتا ہے،سزاد ینے کی تازہ ترین کوشش ہے ۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ غیر منافع بخش تنظیم’ہاشومر یوش‘ پر جس کا کہنا ہے کہ وہ آباد کاروں کو تحفظ میں مدد کرتی ہے،پہلے ہی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یہ تنظیم مغربی کنارے کی ایک غیر مجاز بیرونی چوک کو مادی مدد فراہم کرتی ہے

ملر نے کہا کہ جس عہدےدار پر پابندی عائد کی گئی ہے وہ یہودی بستی اتزار کے سویلین سیکیورٹی رابطہ کار اتزاک لیوی فلنت ہیں جنہوں نے فروری میں مسلح آباد کاروں کے ایک گروپ کو سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور فلسطینیوں کو اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کرنے کےلئے گشت میں مدد فراہم کی تھی ۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ، مغربی کنارے میں انتہا پسندآباد کاروں کا تشدد انتہائی شدید انسانی مصائب کو جنم دے رہا ہے ، اسرائیل کی سیکیورٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور خطے میں امن اور استحکام کے امکانات کو متاثر کر رہا ہے۔


12 دسمبر 2012 کو یروشلم کے جنوب میں واقع بطیر گاؤں میں ڈھلوانوں پر زرعی کھیت ۔فوٹو

12 دسمبر 2012 کو یروشلم کے جنوب میں واقع بطیر گاؤں میں ڈھلوانوں پر زرعی کھیت ۔فوٹو

بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ تشدد کے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرائیں ۔ یہ پابندیاں ہدف بننے والوں کے امریکی اثاثے منجمد کردیں گی ، انہیں رسائی سے انکار کر دیں گی اور ان کےساتھ لین دین کرنے والے امریکیوں پر عمومی پابندیاں نافذ کر دیں گی۔

مغربی کنارے میں تشدد کی بنا پر یہ پابندیاں ایک ایکزیکٹیو آرڈر کے تحت عائد کی جائیں گی جس پر صدر جو بائیڈن نے فروری میں دستخط کیے تھے۔ اس حکم نا مے کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے ساتھ ساتھ یہودی آباد کاروں اور ان کی مدد کرنے والوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔


16 اگست 2024 کو مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے قریب گاؤں پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے ایک دن بعد ایک بچی، ہلاک ہونے والے 23 سالہ فلسطینی کی ماں کو تسلی دے رہی ہے۔ فوٹو

16 اگست 2024 کو مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے قریب گاؤں پر یہودی آباد کاروں کے حملے کے ایک دن بعد ایک بچی، ہلاک ہونے والے 23 سالہ فلسطینی کی ماں کو تسلی دے رہی ہے۔ فوٹو

اسرائیل کی حمایت کرنے والے گروپس اور امریکہ اور اسرائیل کی دہری شہریت رکھنے والوں نے اس حکم نامے کو چیلنج کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ حکم نامہ عمومی طور پر ہر اس شخص کو سزا دیتا ہے جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کا مخالف ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل اپنے شہریوں پر پابندیوں کے نفاذ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتا ہے اور امریکہ کے ساتھ اسپر گفت و شنید ہو گی ۔

سال 1967 میں مشرق وسطیٰ جنگ کے بعد سے اسرائیل نے دریائے اردن کےمغربی کنارے پر قبضہ کر لیا ہےجسے فلسطینی اپنی ایک آزاد ریاست کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل وہاں بہت سی یہودی بستیاں تعمیر کر چکا ہے جنہیں بیشتر ملک غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے اور اس زمین سے اپنے تعلق کے لیے تاریخی اور مذہبی حوالے دیتا ہے ۔


12 دسمبر 2012 کو یروشلم کے جنوب میں واقع بطیر گاؤں میں ڈھلوانوں پر زرعی کھیت ۔فوٹو

12 دسمبر 2012 کو یروشلم کے جنوب میں واقع بطیر گاؤں میں ڈھلوانوں پر زرعی کھیت ۔فوٹو

بائیڈن انتظامیہ نے اس مسئلے پر امریکہ کی ایک پرانی پالیسی کی واپسی کا سگنل دیتے ہوئے،جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق انتظامیہ نے منسوخ کر دیا تھا ، فروری میں کہا تھا کہ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون سے متصادم ہیں۔

نیتن ییاہو کے کٹر قوم پرست وزیر خزانہ بیزلل اسموٹرچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گیور نے آباد کاروں کے خلاف اس سے قبل کی پابندیوں کی مذمت کی تھی ۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ اسرائیل کاٹز نے ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں بھی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح وہ غزہ میں نمٹ رہا ہے۔


 اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر الاقصیٰ کمپاؤنڈ کے دورے کے دوران ، فوٹو رائٹرز، 13 اگست 2024

 اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر الاقصیٰ کمپاؤنڈ کے دورے کے دوران ، فوٹو رائٹرز، 13 اگست 2024

غزہ میں حماس کے ساتھ جاری لڑائی کے دوران اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بھی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

مغربی کنارے میں اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں 640 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ فلسطینیوں کے حملے میں کم از کم 19 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں

اس رپورٹ کا مواد رائٹرز سے لیا گیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں