حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی آرگنائزر ایڈووکیٹ وسند تھیری، لال جروار، ڈاکٹر دلدار لغاری، ماہ نور ملاح اور منصور بپڑ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بارش متاثرین کی ہنگامی بنیادوں پر امداد کی جائے، سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث بارشوں کے دوران عوام کو بہت زیادہ جانی و مالی نقصان اُٹھانا پڑرہا ہے، حکومت کرپشن کر کے جان بوجھ کر گاؤں اور شہر ڈبوکر کر لوگوں کو مار رہی ہے، پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے خونخوار گدھ کی طرح متاثرین کے فنڈز ہڑپنے کے لیے بیٹھے ہیں، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سمیت تمام ذمہ دار ادارے بارش سے متاثرہ لوگوں کی مدد کرنے کو تیار نہیں، بندوں کو مضبوط کرکے لوگوں کو ریسکیو کرنے، دیہاتوں اور شہروں کو سیلاب سے بچانے کی سندھ اور وفاقی حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سندھ کی تباہی کا منظر نیرو کی طرح بانسری بجاتے دیکھ رہے ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے جس کے نتیجے میں سندھ کے لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے، اگر سندھ کے لوگوں کو پکے مکانات ملتے تو آج گھروں کی چھتیں گرنے سے لوگوں کی ملبے میں دبنے کی وجہ سے ہلاکتوں کے واقعات نہ ہوتے، پیپلز پارٹی کی حکومت کی کرپشن کی وجہ سے معصوم بچے، خواتین، بوڑھے اور نوجوان چھتوں کے ملبے میں دبنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بارشوں کے دوران موسم اور آبپاشی کی صورتحال کے بارے میں عوام کو درست معلومات فراہم کی جائے، این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے جیسے کرپٹ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کرکے ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کو ریسکیو کیا جائے، بندوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کر کے کے این شاہ، میہڑ، وارہ، جھڈو سمیت سندھ کے تمام شہروں کو ڈوبنے سے بچایا اور متعلقہ حکام کو سخت چوکسی کا پابند بنایا جائے۔