اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے رکن اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ کیا بلوچ پنجابی پٹھان ہزارہ کے خون کا رنگ الگ ہے اگر خون کا رنگ الگ نہیں تو دہشت
گردی کے مسئلے پر اکٹھے کیوں نہیں ہوسکتے۔انتیس لوگوں کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا یہ پنجابی اور بلوچی کی لڑائی نہیں یہ دہشت گردوں اور پاکستان کی لڑائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا جمال رئیسانی نے کہا کہ کیا بلوچ پنجابی پٹھان ہزارہ کے خون کا رنگ الگ ہے اگر خون کا رنگ الگ نہیں تو دہشت گردی کے مسئلے پر اکٹھے کیوں نہیں ہوسکتےانتیس لوگوں کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا یہ پنجابی اور بلوچی کی لڑائی نہیں یہ دہشت گردوں اور پاکستان کی لڑائی ہے انہوں نے کہا کہ یہاں پر لفظ ناراض بلوچ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے کیا ناراض بلوچ کا مطلب ہے کہ لوگوں کو مارا جائے ۔