ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

گڈ گورننس کمیٹی کو سرکاری محکموں اور پی ٹی آئی عہدیداروں کیخلاف گمنام درخواستیں ملنا شروع

 پشاور:  پی ٹی آئی گڈ گورننس کمیٹی کو سرکاری محکموں اور پی ٹی آئی عہدے داروں کے خلاف گمنام درخواستیں ملنا شروع ہوگئیں تاہم کمیٹی نے غلط اور جھوٹی شکایات پر کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ بیشتر درخواستوں کے ساتھ الزامات کے ثبوت نہیں ہوتے، کمیٹی نے ایسی غلط اور بوگس شکایات کنندگان کے خلاف ایکشن نہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔

کمیٹی کے رکن نے بتایا ہے کہ یہ اتفاق رائے درست اور ٹھیک شکایات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کمیٹی کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں نہ ہی باقاعدہ طور پر کوئی ٹی او آرز بنیں گے، کمیٹی کا کام گڈ گورننس، میرٹ کی بالادستی، مالی شفافیت اورمعاملات کو ٹریک پر رکھنا ہے، سیاسی نوعیت کی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ کو رپورٹ دی جاتی ہے۔

کمیٹی رکن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر بھی ہیں اس لیے پارٹی معاملات کی رپورٹ انھیں دیتے ہیں، سرکاری امور کی چھان بین کے لیے معاون خصوصی برائے اینٹی کرپشن کے توسط سے اداروں سے تعاون لیا جاتا ہے، سرکاری امور کے حوالے سے کسی بھی بے قاعدگی کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند دنوں میں صوبے کے سرکاری اداروں اور پارٹی معاملات میں واضح تبدیلی دکھائی دے گی۔

بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ گڈگورننس کمیٹی مشاورتی کمیٹی ہے، ہر کسی کو ہتھ کڑیاں نہیں لگاسکتے یہ فیصلہ عدالت کرے گی، گڈ گورنس کمیٹی نے شکیل خان کے معاملے پر میڈیا کو بریفنگ دے دی، کمیٹی کی رپورٹ خفیہ رکھا گیا ہے صرف کمیٹی ہی رپورٹ پر بات کرے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں