امریکا اور برطانیہ کے بعد اب کینیڈا میں بھی تارکینِ وطن کی تعداد کم کرنے کی مہم سی چل پڑی ہے کینیڈین حکومت نے امیگریشن کی سطح نیچے لانے کے لیے ویزا کی درخواستوں کو ریکارڈ تعداد میں مسترد کرنا شروع کردیا ہے۔
وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت کی بنیادیں کمزور پڑچکی ہیں۔ جس پارٹی کی حمایت سے حکومت قائم تھی اُس نے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ اب جسٹن ٹروڈو کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کسی نہ کسی اپوزیشن پارٹی کو ساتھ ملانا پڑے گا۔
حکومت پر تارکینِ وطن کے حوالے سے بھی شدید دباؤ ہے۔ مہنگائی بھی بڑھی ہے اور ہاؤسنگ کا بحران بھی شدت اختیار کرگیا ہے۔ ملک بھر میں تارکینِ وطن کے خلاف جذبات اُبھرے ہوئے ہیں۔ کینیڈا کے طول و عرض میں لوگ تارکینِ وطن کے ہاتھوں رہائش اور ملازمت دونوں ہی معاملات میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
امریکا اور برطانیہ کی طرح اب کینیڈا کی سیاست میں بھی تارکینِ وطن کا معاملہ ایک بنیادی فیکٹر بن کر اُبھرا ہے۔ ایک طرف تارکینِ وطن اپنی سیاسی حیثیت منوانے کی کوششوں میں جُتے ہوئے ہیں اور دوسری طرف مقامی کینیڈین باشندے تارکینِ وطن کے حق میں اور اُن کے خلاف اُٹھنے والی آوازوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔
کینیڈا کے حکام اول تو ویزا کم جاری کر رہے ہیں اور بہت سوں کو ویزا ہونے پر بھی ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جارہا۔ جولائی میں 5853 غیر ملکیوں کو ویزا دینے سے معذرت کرلی گئی اور 285 افراد کو کارآمد ویزا کا حامل ہونے پر بھی کینیڈا میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
کینیڈین حکومت کو پہلے ہی تارکینِ وطن کی بڑھی ہوئی تعداد کا سامنا ہے۔ اِن میں بھارتی باشندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی بگاڑ بھی پیدا ہوا ہے۔ چند ماہ کے دوران بھارتی ہندوؤں اور سِکھوں کے درمیان غیر معمولی کشیدگی سامنے آئی ہے۔ بھارت کی سرزمین پر اُبھرنے والے مناقشے اب کینیڈا کی سرحدوں میں داخل ہوگئے ہیں۔
