ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پی ٹی آئی نے 15 اکتوبر کی احتجاجی ریلی ختم کرنے کے لیے شرط عائد کر دی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 15 اکتوبر کو ہونے والی اپنی احتجاجی ریلی ختم کرنے کے لیے اپنی شرط سامنے رکھی ہے، تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس شرط کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے اس شرط میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان سے ان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ملاقات کی اجازت دی جائے، تاکہ ان کی صحت کی موجودہ صورتحال معلوم کی جا سکے۔

پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے نجی نیوز چینل کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ “آپ جیل کو جلسے کے لیے کھول سکتے ہیں، تو اگر آپ کو ایس سی او کی فکر ہے، تو عمران خان  سے ملاقات کی اجازت دیں۔ اگر ان کی بہنیں اور ڈاکٹر یہ کہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے تو احتجاج نہیں ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت اپنے بانی چیئرمین کی صحت کے بارے میں فکر مند ہے اور حکام کی جانب سے ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

ترجمان نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پارٹی قیادت میں 15 اکتوبر کی ریلی کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں ہیں، جیسا کہ بعض حلقے دعویٰ کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے  مطابق، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سمیت دیگر رہنماؤں نے ریلی کی مخالفت کی، جبکہ حماد اظہر اور سلمان اکرم جیسے رہنما ریلی کے حق میں ہیں۔

دریں اثنا، پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ کو ایک خط بھیجا ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور حامد رضا کو پارٹی کے بانی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں