ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نازیبا حرکات کی شکایات پر بھارتی عدالتوں نے نرم دلی کا مظاہرہ شروع کردیا

بھارت کی اعلیٰ عدلیہ نے انتہائی قابلِ اعتراض معاملات سے متعلق شکایات کے حوالے سے انتہائی نرم دلی، بلکہ دریا دلی کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج اخلاقی زوال سے متعلق شکایات کی سماعت کے دوران قانون اور قوائد سے ہٹ کر اپنی رائے کی روشنی میں تجاویز پیش کرنے لگے ہیں۔

دو دن قبل سپریم کورٹ نے ہراساں کیے جانے کی شکایات کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ کسی عورت کے جسم کے کسی نازک حصے سے چھیڑ چھاڑ اور اُسے بے لباس کرنے کی کوشش کو زنا بالجبر کی کوشش قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اب ممبئی ہائی کورٹ نے ورک پلیس میں کسی خاتون کو دیکھ کر کوئی فلمی گیت گانے یا کوئی فلمی مکالمہ بولنے کو قابلِ اعتراض قرار دینے سے گریز کیا ہے۔

ایک خاتون نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا تھا کہ اُن کے دفتر کا ایک شخص اُنہیں دیکھ کر مشہور فلمی گانا “یہ ریشمی زلفیں، یہ شربتی آنکھیں ۔۔۔۔” گانے لگتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی شکایات درج کرانے سے گریز کیا جانا چاہیے اور معاملات کو دفتر یا ورک پلیس کی حدود میں طے کرلینا چاہیے۔ جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگ ہر معاملے کو قابلِ اعتراض سمجھ لیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں