غزہ: اسرائیلی جارحیت میں اب تک غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جس میں ایک بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق غزہ کی وزارت صحت نے کہاکہ اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ سے فلسطینیوں کے بڑے پیمانے پر انخلا کا حکم دیا ہے جبکہ رفح کے بعض علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں، زیادہ تر فلسطینی جو حالیہ جنگ بندی کے دوران اپنے گھروں کو واپس آئے تھے، دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاکہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع پر راضی کیا جا سکے۔
خیال رہےکہ 8 اکتوبر 2023 سے اسرائیل غزہ کے نہتے مسلمانوں پر مسلسل بمباری کررہاہے، جس کی وجہ سے ہزاروں گھر مسمار اور کئی ہزار مساجد، گرجا گھر، اسپتال اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ ہوگئےہیں۔
واضح رہےکہ جنگ بندی کے دوران حماس نے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جبکہ اسرائیل نے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا تھا، تاہم اسرائیل نے مزید یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر فلسطین کے نہتے لوگوں پر بمباری کا سلسلہ شروع کردیا ہے، غزہ میں خوراک، ایندھن، بجلی، امداد اور طبی سامان کی ترسیل بھی روک دی۔
غزہ میں انسانی بحران دن بدن شدت اختیار کر رہا ہے، اور شہری مسلسل جنگ اور نقل مکانی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔