اسلام آباد : ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں فنانشل سروسز سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک بڑی تعداد بینکنگ سہولت سے محروم ہے، بالغ آبادی کی بڑی تعداد کو رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل نہیں، خواتین کے لیے بینکنگ سہولتوں تک رسائی مردوں کے مقابلے میں نصف ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں فنانشل سروسز سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ پاکستان کی 24 کروڑ 10 لاکھ کی آبادی 60 فیصد بالغ افراد پر مشتمل ہے، ملک میں 9 کروڑ 10 لاکھ انفرادی مالیاتی اداروں کے اکاو ¿نٹس موجود ہیں۔اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق بالغ آبادی کی بڑی تعداد کو رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل نہیں، 15سال میں پاکستان میں مالیاتی خدمات تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، مالیاتی اداروں میں اکاو ¿نٹس کی تعداد 2019 سے 2024 تک 127 فیصد بڑھ چکی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالیاتی اخراج خواتین پر مردوں کے مقابلے میں زیادہ اثرانداز ہوتا ہے، خواتین کے لیے بینکنگ سہولتوں تک رسائی مردوں کے مقابلے میں نصف ہے۔ ترقی پذیر ایشیا میں ایک ارب سے زائد افراد بینکنگ سہولت سے محروم ہیں۔
اے ڈی بی کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ پاکستان میں بھی ایک بڑی تعداد بینکنگ سہولت سے محروم ہے، پاکستان میں 21 فیصد افراد کے پاس بینک اکائونٹ یا موبائل منی تک رسائی ہے۔ بہت سے لوگ مالی لین دین کے لیے غیر رسمی نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل فنانس اس خلا کو پر کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے، ڈیجیٹل فنانس تیز، محفوظ اور زیادہ قابل رسائی لین دین ممکن بناتا ہے۔