ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

الیکشن کے بعد مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے کا حکم قانون کے خلاف ہے، الیکشن کمیشن



اسلام آباد:

سپریم کورٹ میں زیرسماعت مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کیس کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے تحریری گزارشات جمع کرادی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے تحریری گزارشات میں کہا ہے کہ اکثریتی فیصلے میں لکھا ہے کہ تحریک انصاف عدالت کے سامنے موجود تھی اور تحریک انصاف نے کبھی مخصوص نشستوں کی استدعا نہیں کی۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے کسی فورم پر مخصوص نشستیں نہیں مانگیں، 12 جولائی کے فیصلے میں سنی اتحاد کونسل کو تحریک انصاف سے بدل دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن پروگرام کے مطابق پولنگ سے قبل جمع ہوتی ہے، 12 جولائی کے فیصلے میں تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کے بعد مخصوص نشستوں کی فہرست جمع کرانے کا حکم قانون کے برخلاف ہے، 39 ارکان کو قانونی طریقے کے برعکس تحریک انصاف کا رکن قرار دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 187 کا ریلیف دائرہ اختیار سے باہر جا کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے جسٹس منصور علی شاہ کے ماضی کے آرٹیکل 187 فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، الیکشن ایکٹ 94 کو کالعدم قرار دینے پر الیکشن کو سنا نہیں گیا، اکثریتی ججوں نے 14 ستمبر اور 18 اکتوبر کی وضاحت پر نوٹس نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ دونوں وضاحتوں سے قبل کیس 13 رکنی بینچ کے سامنے نہیں لگایا گیا، اکثریتی فیصلے میں آرٹیکل 10اے اور آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں