ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

وزیراعظم کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف کارروائیاں تیز کرنے کا حکم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے تاکہ کسی متاثرہ خاندان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ بے گھر ہونے والے اور نقل مکانی پر مجبور افراد کو فوری امداد فراہم کی جائے، خیمے، ادویات، خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ طبی سہولیات تک رسائی کو بھی ترجیح دی جائے۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق وزیراعظم نے واضح کیا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے، اور امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جا رہا ہے، ہر ممکن کوشش کی جائے کہ متاثرہ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور ان کی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے۔

شہباز شریف نے موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، ان موسمیاتی اثرات سے بچاؤ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے جس میں پیشگی وارننگ سسٹم کو مزید بہتر بنانا، مضبوط اور پائیدار انفرااسٹرکچر تعمیر کرنا اور مقامی سطح پر حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا شامل ہے۔

وزیراعظم نے جلالپور پیروالا کے قریب کشتی حادثے پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جائے اور حادثے کی وجوہات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی بحالی کے لیے جامع پیکج تیار کیا جا رہا ہے تاکہ نقصان اٹھانے والے کسانوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کی فوری مدد کی جا سکے۔

خیال رہےکہ این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے بارشوں اور سیلابی ریلوں سے سب سے زیادہ نقصان پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع میں ہوا ہے۔ پنجاب کے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفرگڑھ اور جلالپور پیروالا میں درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے جبکہ سندھ کے کشمور، خیرپور اور گھوٹکی میں بڑی تعداد میں مکانات تباہ ہوئے۔

 رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10 دنوں میں کم از کم 180 افراد جاں بحق اور 350 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً 25 ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بھی زیرِ آب آچکی ہے جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ترجمان کے مطابق اب تک 50 ہزار سے زائد متاثرین کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں کھانے پینے کی اشیاء اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ریسکیو آپریشنز میں پاک فوج، رینجرز، پولیس اور مقامی رضا کار بھی شریک ہیں جو کشتیوں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے پھنسے ہوئے خاندانوں کو نکال رہے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں