ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حکمران سیلاب کی تباہ کاریوں کو قدرتی آفت قرار دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے، حافظ نعیم الرحمن

گجرات،پھالیہ:۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر شدید مہنگائی، غذائی قلت اور زرعی بحران پیدا ہونے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے خورونوش، کھاد، بیج اور زرعی ادویات پر سبسڈی کا اعلان کیا جائے۔

گجرات اور منڈی بہاﺅالدین کی تحصیل پھالیہ میں سیلاب متاثرین، جماعت اسلامی و الخدمت کے رضاکاران اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کے پیسوں سے ذاتی تشہیر بند ہونی چاہیے ، قوم اس لیے ٹیکس دیتی ہے کہ انہیں بنیادی ضروریات کی چیزیں کنٹرول ریٹس پر دستیاب ہوں اور حکومت غذائی قلت کے تدارک کے لیے بروقت اور فوری اقدامات اٹھائے۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، امیر ضلع گجرات انصر محمود ایڈوکیٹ، الخدمت شمالی پنجاب کے صدر رضوان احمد، امیر ضلع سیف اللہ ساہی، امتیاز شکور بٹ ضلعی صدر الخدمت اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کے شمال اور مشرق میں تباہی کے بعد اب سیلابی ریلے جنوبی پنجاب اور سندھ کا رُخ کررہے ہیں، ماحولیاتی تباہی سے بچاﺅ کے لیے حکومت نے کوئی واضح منصوبہ بندی کی اور نہ ہی عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ موثر طریقے سے پیش کیا ہے، قبضہ مافیا کے ساتھ درخت کاٹنے والا مافیا بھی سرگرم ہے اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ سیلاب سے تباہی بھارتی آبی جارحیت کے ساتھ ہمارے حکمرانوں کی نالائقیوں کا نتیجہ ہے۔ گجرات شہر پانی میں ڈوب گیا اور یہاں کشتیاں چل رہی ہیں۔ سیلاب متاثرین کی حالت زار دیکھ کر انتہائی تکلیف ہوئی، متاثرین کو یقین دلاتے ہیں کہ جماعت اسلامی ان کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑے گی، یہ سیاست یا الیکشن کے لیے نہیں، انسانیت کی خدمت اور اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے دریاﺅں کی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے اور ہاﺅسنگ کالونیز بنانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں وہ مافیا قرار دیا جنہیں ہر حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مگرمچھوں سے جان چھڑانا ہوگی، یہ ہر حکومت بھلے ساڑھے تین برس یا پنتیس برس سے مسلط حکمرانوں کی ہو، مافیاز سب کا اے ٹی ایم بن کر ان کا حصہ بن جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکمران سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کو محض قدرتی آفت کا نام دے کر بری الذمہ نہیں ہوسکتے ، یہ تباہی ظالموں کے ظلم کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا سیلاب سے کسان سڑک پر آگیا ہے، لوگ دربدر ہیں، جبکہ حکمران طبقات فوٹو سیشنز میں مصروف ہیں، پانی کی بوتل سے لے کر بنیادی مرکز صحت تک ہر جگہ اپنا نام لکھوایا جارہا ہے، حکمران ذاتی تشہیر کی بجائے قوم کی حالت زار پر توجہ دیں۔

امیر جماعت اسلامی نے اربن فلڈنگ اور خصوصی طور پر بڑے شہروں کی صورتحال پر حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا چالیس سال سے حکومت کرنے والوں کو نہیں پتا سیوریج کا نظام تباہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ سترہ سال مسلسل حکمرانی کے بعد بلاول بھٹو کو پتا چلا کہ کراچی کے نلکوں میں پانی نہیں آتا۔ بیس ارب اس ایم کیو ایم کو دے دیے گئے جنہوں نے قومی انتخابات میں بیس بوتھ بھی نہیں جیتے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں خاندانوں کی اجارہ داری کا نظام اسٹیبلشمنٹ مسلط کرتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام اور خصوصی طور پر نوجوان اب حکمرانوں کی چالیں سمجھنے لگے ہیں، انہیں پتا چل چکا ہے کہ کون سی جماعت مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ عوام بڑی تیاری کرلیں، 21نومبر کو مینار پاکستان پر تاریخی اور عظیم الشان اجتماع کرنے جارہے ہیں جو نظام کی تبدیلی کی بڑی اور منظم تحریک کا آغاز ہوگا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں