اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی کاکہناہے کہ ملکی حالات کی تیزی سے بدلتی ہوئی رفتار اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین پارلیمنٹ سے اور کچھ جج عدلیہ سے باہمی مفاد کی خاطر مستعفی ہوسکتے ہیں۔
مسلم لیگ کے رہنما نے کہاکہ یہ صورتحال ملک کو ایک بار پھر سیاسی و آئینی بحران کی طرف لے جا سکتی ہے، پارلیمانی نظام میں قائمہ کمیٹیاں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہ ادارہ پارلیمنٹ کی روح تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود ہے تو اسے چاہیے کہ قائمہ کمیٹیوں میں بھی اپنی نمائندگی برقرار رکھے اور اپنا جمہوری کردار ادا کرے، کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ اپنی موجودگی اور ذمہ داریوں کو پورا کرنا جمہوری اصولوں کا تقاضا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی ہوگی، کیونکہ صرف تنقید یا بائیکاٹ کے ذریعے نہ تو عوامی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی جمہوری عمل کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو سیاسی انتشار یا بحران کی نہیں بلکہ اتفاق رائے اور جمہوری استحکام کی ضرورت ہے، اگر پارلیمانی سیاست کو کمزور کرنے یا اداروں کو متنازع بنانے کی کوششیں کی گئیں تو اس کا نتیجہ ایک اور بڑی ناکامی اور ایک اور بڑی رسوائی کی صورت میں نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ اصل ہدف پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھنا ہونا چاہیے، لیکن بعض قوتیں ملک کو دوبارہ غیر یقینی کی کیفیت میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کاکہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف اداروں کا وقار مجروح ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور ادارے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور ملک کو مزید بحران میں نہ جھونکیں۔