اسلام آباد : سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شوگر ملزمالکان کی جیبوں میں یومیہ 100ارب جارہا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں،مہنگائی کا جن بے قابو ہے ، چینی اور آٹا مارکیٹوں سے غائب ہے۔انہوں نے مری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جھیکا گلی 150سال پرانا بازار تھا لیکن حکومت نے نہیں بتایا کہ بازار کو کیوں گرایا گیا؟حکومت نے لوگوں کے روزگار ختم کردیے اور پیسے بھی نہیں دیے۔
لوئر ٹوپہ میں عوامی اجتماع پر انتظامیہ نے لوگوں پر دہشتگردی کا پرچہ دے دیا۔ مری کے 3 رہنماو ¿ں کو فورتھ شیڈول میں کس قانون کے تحت ڈالا گیا؟حکمرانوں کا یہی طرز حکمرانی رہا تو قوم سڑکوں پر ہوگی۔ انتظامیہ اگر ہماری خودمختاری پر حملہ کرے گی تو حالات مختلف بنا دیں گے۔ گھرگرانے کا مقصد بتائے بغیر لوگوں کے روزگار اور گھر نہیں گرنے دیں گے۔
مہنگائی کا جن بے قابو ہے ، چینی اور آٹا مارکیٹوں سے غائب ہے، شوگر ملزمالکان کی جیبوں میں یومیہ 100ارب جارہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ وقت کی ضرورت تھی، پاکستان نے پہلے بھی حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی ہے۔