ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

پمز اسپتال کے ڈاکٹرزکے دوبارہ ٹیسٹ کا معاملہ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید اقدام سے روک دیا



اسلام آ باد:

اسلام آبادہائی کورٹ نے پمز اسپتال شعبہ ایمرجنسی کے ریگولر ڈاکٹرزکے دوبارہ ٹیسٹ اور انٹرویوز کے معاملے پر وفاقی وزارت صحت کو مزید کسی اقدام سے روک دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے ڈاکٹر شرجیل ظہیر اور ڈاکٹر سعدیہ نثار کی درخواست پر سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاران کے مطابق ان کو 2012 میں ریگولر کر دیا گیا تھا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاران کے مطابق ریگولرائزیشن کے 13 سال بعد کہا گیا کہ بھرتی درست نہیں لہٰذا ٹیسٹ اور انٹرویو دیاجائے، وکیل کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ1973کی دفعہB-11 کے مطابق ریگولرملازمین سے ٹیسٹ وغیرہ نہیں لیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے مختلف فیصلوں کا حوالہ بھی دیاگیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کا پٹیشن نمبر949/2023 کا فیصلہ درخواست گزارن پرلاگو نہیں ہوتا۔

حکم نامے کے مطابق وکیل نے بتایا کہ درخواست گزاران کو وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق ریگولرائز کیاگیا، فیصلے سے حاصل ہونے والے حقوق 13 سال بعد ختم نہیں کیے جاسکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ معاملہ قابل غور ہے، فریقین آئندہ سماعت پر پیرا وائز کمنٹس جمع کرائیں جبکہ اگلی سماعت تک درخواست گزاران کا گزشتہ اسٹیٹس برقرار رہے گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں