کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت پاکستان برائے اطلاعات سندھ بیرسٹر راجا خلیق الزمان انصاری نے دعویٰ کیا کہ گرین لائن منصوبے پر جاری کام میئر کراچی نے سٹی وارڈنز بھیج کر رکوا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا تھا اور اگر رکاوٹیں نہ آئیں تو جون 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ گرین لائن کا دوسرا مرحلہ 2035 سے پہلے مکمل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے ساڑھے پانچ ارب روپے مختص کیے ہیں اور اس منصوبے کا دوسرا فیز “کامن کوریڈور” ہے جس پر مستقبل میں تمام بی آر ٹی بسیں چلیں گی۔
راجا خلیق الزمان انصاری نے کہا کہ گرین لائن وفاقی حکومت کا فنڈڈ منصوبہ ہے جس کا آغاز 2016 میں نواز شریف نے کیا تھا۔ 10 مارچ 2025 کو یہ سندھ حکومت کے حوالے کیا گیا اور اب روزانہ کے مسافروں کی تعداد 52 ہزار سے بڑھ کر 82 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاق کراچی کو معیاری ٹرانسپورٹ سہولت دینا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت اور میئر آفس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے درخواست کی کہ پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرتے ہوئے کراچی کی خدمت کے لیے مل جل کر آگے بڑھا جائے۔