پاکستان سے حالیہ بدترین شکست کے بعد بھارت میں پائی جانے والی بے چینی اور خوف کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ باکو سے چنئی جاتے ہوئے ایک کارگو طیارے کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ طیارہ 23 ستمبر کو فنی خرابی کے باعث کراچی میں ایمرجنسی لینڈنگ پر مجبور ہوا تھا اور پانچ دن تک ایئرپورٹ پر گراؤنڈ رہا۔ غیر ملکی ماہرین کی نگرانی میں مرمت مکمل ہونے کے بعد طیارے نے اپنی نئی منزل کولمبو کے لیے پرواز بھری، مگر بھارت نے اسے اپنی فضائی حدود سے گزرنے سے روک دیا۔
بھارتی اجازت نہ ملنے کے باعث یہ پرواز جو عام حالات میں صرف تین گھنٹے میں مکمل ہو جاتی ہے، سات گھنٹے سے زائد طویل روٹ سے کولمبو پہنچی۔ طیارے کو مخالف سمت میں اڑان بھرنی پڑی، پہلے ایران اور پھر خلیجی ممالک کا طویل چکر کاٹا اور بالآخر مالدیپ کے راستے سری لنکا پہنچا۔ اس طرح پرواز کو ساڑھے چار گھنٹے کا اضافی وقت برداشت کرنا پڑا۔
بھارتی حکام کی جانب سے اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں شکست نے نئی دہلی کو ہر سطح پر خوف اور دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کارگو پرواز کو بھی غیر معمولی تاخیر اور دشوار راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دنیا بھر سے بھارت جانے والی غیر ملکی ایئر لائنز معمول کے مطابق پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتی ہیں، لیکن اس مخصوص معاملے میں بھارتی رویہ غیر معمولی نظر آیا، جو خطے کی بدلتی ہوئی کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔