لاہور:۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ حسن بلال ہاشمی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ نام نہاد 20 نکاتی امن منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے اور ناجائز اسرائیلی قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔
جاری بیان میںانہوں نے کہا کہ فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیل نامی ریاست کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں اور اس کی توثیق یا تسلیم دراصل مظلوم فلسطینی عوام کی قربانیوں سے انحراف ہے۔
ناظمِ اعلیٰ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف فلسطینی عوام کی مکمل آزادی اور ناجائز صہیونی ریاست کے خاتمے میں مضمر ہے۔ فلسطینی عوام کی مشاورت اور رضامندی کے بغیر کوئی بھی منصوبہ محض ایک مسلط کردہ دستاویز ہے جو کبھی بھی قابلِ عمل یا قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان کو متنبہ کیا کہ ٹرمپ پلان کی حمایت دراصل بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے اصولی موقف اور ملکی عوامی جذبات سے انحراف ہے۔ پاکستان کا تاریخی اور دوٹوک موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ فلسطین کے اصل وارث صرف فلسطینی عوام ہیں، اس موقف سے پیچھے ہٹنا قومی وقار اور خارجہ پالیسی کے اصولوں کو داغدار کرنے کے مترادف ہوگا۔
حسن بلال ہاشمی نے پاکستانی عوام اور خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے حق میں یک زبان ہو کر آواز بلند کریں تاکہ دنیا پر یہ واضح ہو کہ پاکستانی قوم اور طلبہ مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ ہر سطح پر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزادی کی جدوجہد کے ساتھ کھڑی رہے گی اور کسی بھی عالمی دباﺅ یا سیاسی منصوبے کے باوجود اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔