ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سیکورٹی فورسز کی پسنی میں غیر ملکی فوجی اڈے کی خبروں کی تردید

اسلام آباد: اعلیٰ سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی میں کسی غیر ملکی فوجی اڈے کے قیام کی خبریں بلا بنیاد اور محض افواہیں ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پسنی پورٹ کی ترقی، ساحلی علاقوں میں معدنی وسائل کی تلاش اور سرمایہ کاری سے متعلق مختلف ممالک اور عالمی کمپنیوں کی جانب سے تجاویز موصول ہو رہی ہیں، کسی بھی فیصلے میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے دفاعی، معاشی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں، جن کا مقصد دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

 ذرائع نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ فوج کسی سیاسی جماعت سے رابطے میں ہے،  فوج کا کسی سیاسی جماعت سے نہ کوئی رابطہ تھا، نہ ہے اور نہ مستقبل میں ایسا ارادہ ہے،سیاسی مذاکرات سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے چاہئیں، ریاست کا کردار صرف آئینی حدود کے اندر رہ کر ہوتا ہے۔

  9 مئی کے واقعات سے متعلق سوال پر سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ان کیسز کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور ریاست کسی بھی صورت میں دہشت گرد عناصر سے مذاکرات نہیں کرے گی۔

آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ مسئلے کے حل کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے، جس نے حالات کو پُرامن انداز میں سنبھالا۔

یاد رہے کہ بین الاقوامی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو گوادر کے قریب پسنی بندرگاہ چلانے کی پیشکش کی ہے، جس سے واشنگٹن کو خطے میں ایک اسٹریٹجک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

 سکیورٹی اور انٹیلی جنس ذرائع نے اس رپورٹ کے کئی نکات کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے، فیلڈ مارشل یا کسی سرکاری مشیر نے امریکا یا کسی دوسرے ملک کو ایسی پیشکش نہیں کی۔

 ذرائع نے مزید بتایا کہ بعض نجی افراد یا غیر سرکاری ادارے اپنے طور پر سرمایہ کاری یا شراکت داری سے متعلق تجاویز دیتے ہیں لیکن انہیں ریاستی موقف یا پالیسی سمجھنا درست نہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے ساحلی علاقوں کی ترقی، بندرگاہوں کی سیکیورٹی اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلے ہمیشہ قومی مفاد اور خودمختاری کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں