مقبوضہ بیت المقدس: غزہ پر مسلط کی گئی تباہ کن جنگ کے 2 سال مکمل ہونے پر قابض صہیونی وزارتِ دفاع نے اپنے فوجی نقصانات کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 1152 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 40 فیصد سے زیادہ وہ نوجوان اہلکار تھے جن کی عمریں 21 برس سے کم تھیں، جنہیں گزشتہ 2 برس کے دوران شدید لڑائیوں میں محاذ پر بھیجا گیا۔
اسرائیلی وزارتِ دفاع نے تسلیم کیا کہ اس جنگ نے نہ صرف اسرائیلی ریاست پر بھاری مالی بوجھ ڈالا ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی عوامی بے چینی اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ مسلسل مزاحمت کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا پڑی اور میدانِ جنگ میں اسے شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعداد و شمار اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہیں کیونکہ تل ابیب کی جانب سے اب تک عوام کو جنگ کی اصل قیمت سے لاعلم رکھا گیا تھا۔
اب جب کہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور غزہ میں انسانی بحران انتہا کو پہنچ چکا ہے، اسرائیلی عوام میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آخر کب تک یہ خونریز جنگ جاری رہے گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اس کے جنگی جرائم پر جواب دہ بنایا جائے اور فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو روکا جائے۔