کراچی: پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2025ء میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی ترسیلات زر 3.2 ارب امریکی ڈالر کی سطح عبور کر گئیں۔
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2025-26ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی ترسیلات 9.5 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موصول ہونے والی 8.8 ارب ڈالر ترسیلات کے مقابلے میں 8.4 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب سے موصول ہوئیں، جن کی مالیت 750.9 ملین ڈالر رہی۔ متحدہ عرب امارات سے 677.1 ملین ڈالر، برطانیہ سے 454.8 ملین ڈالر جبکہ امریکا سے 269 ملین ڈالر پاکستان بھیجے گئے۔ دیگر خلیجی اور یورپی ممالک سے بھی قابلِ ذکر رقم موصول ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن کے ساتھ مضبوط مالی رشتہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ نہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت ہے بلکہ باضابطہ بینکاری ذرائع کے استعمال میں اضافے کا نتیجہ بھی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی مالی پالیسیوں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی سہولت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے۔
ترسیلات زر میں یہ اضافہ پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے اور روپے کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں ملکی معیشت کو قدرے استحکام حاصل ہوگا اور درآمدات کے دباؤ میں کمی آئے گی۔