ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

غزہ کے بچوں پر دو سالہ قیامت : یہ جنگ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے، یونیسیف

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت اور قحط کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے انتہائی تشویشناک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے بچے گزشتہ دو برسوں سے جہنمی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں بچے جاں بحق، زخمی اور بے گھر ہوچکے ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق یونیسیف کی سربراہ کیتھرین رسل نے کہا کہ700 سے زائد دنوں سے غزہ کے معصوم بچے موت، معذوری اور بے گھری کا شکار ہیں،  اسرائیلی بمباری بدستور جاری ہے اور دنیا کا خاموش رہنا انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک 64 ہزار سے زائد بچے یا تو جاں بحق ہوچکے ہیں یا شدید زخمی، جن میں ایک ہزار سے زیادہ شیر خوار بچے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غزہ سٹی میں بھوک اور قحط کی لہر بدستور پھیل رہی ہے جو اب جنوبی علاقوں تک جا پہنچی ہے،   غزہ کے بچوں میں غذائی قلت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، بالخصوص نوزائیدہ بچوں کی نشوونما پر مہینوں کی غذائی کمی نے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

یونیسیف سربراہ نے غزہ کے  موجودہ حالات کو انسانیت کے لیے شرمناک منظر  قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہفتے سے اب تک 14 مزید بچے اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوچکے ہیں، یہ صورتحال کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

کیتھرین رسل نے کہا کہ یونیسیف تمام عالمی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے جو جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کی جا رہی ہیں،کوئی بھی امن منصوبہ تبھی بامعنی ہو گا جب اس میں فوری جنگ بندی، تمام مغویوں کی رہائی، اور امدادی سامان کی محفوظ و آزادانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، ہر بچے کی موت ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہوگا،  یہ جنگ ختم ہونی چاہیے، اور وہ بھی ابھی۔

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے حماس کی قیادت قطر کے شہر دوحہ میں موجود تھی لیکن اسرائیلی دہشت گردوں نے مذاکرات کو ثبوتاژ کرنے کے لیے قیادت پر بمباری کرکے حملہ کردیا، جس پر عالمی اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ دنیا عالمی دہشت گردی کرنے والے ملک کو لگام ڈالنے کے بجائے حماس کی پرامن تنظیم کو غزہ کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل غزہ میں امداد کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں