ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسرائیل غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائے، ترک وزیر خارجہ

انقرہ: ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کوئی اشتعال انگیزی ہوئی تو جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے اور شہریوں کی تکالیف میں اضافہ ہوگا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حقان فیدان نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ طے شدہ معاہدہ کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھے۔ اسرائیل کی جانب سے کوئی بھی اشتعال انگیز کارروائی دوبارہ جنگ کے آغاز، نسل کشی کے تسلسل اور شہریوں کی مزید بے دخلی کا سبب بن سکتی ہے۔

حقان فیدان نے کہا کہ یہ معاہدہ طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ہے اور اس میں اہم نکات شامل ہیں، جن میں انسانی امداد کا داخلہ، بے گھر فلسطینیوں کی واپسی، اور اسرائیلی افواج کا متفقہ علاقوں تک انخلا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ان اقدامات پر عمل درآمد انتہائی اہمیت رکھتا ہے،  ترکیہ زمینی سطح پر تکنیکی معاونت اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ یہ معاہدہ قائم رہے۔

ترک وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر یہ عمل رُکا تو حالات دوبارہ قتل عام کی طرف جا سکتے ہیں،  پہلے مرحلے کی کامیاب عملداری کے بعد امن عمل کے اگلے مراحل کی راہ ہموار ہوگی، جو مستقل استحکام اور دو ریاستی حل کی بنیاد بنے گی۔

حقان فیدان نے کہا کہ ہم اس وقت جنگ بندی کے نفاذ، یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں،‘‘ جبکہ اگلا مرحلہ غزہ کی حکمرانی اور اندرونی سلامتی کی بحالی سے متعلق ہوگا۔

انہوں نے کہایہ عمل مستقل توجہ اور احتیاط کا متقاضی ہے،  ترکیہ اس پورے عمل کو عزم اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھاتا رہے گا تاکہ خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مصر کے شہر شرم الشیخ میں ایک 20 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر جنگ بندی معاہدہ طے پایا جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا،  منصوبے کے پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ، اسرائیلی افواج کا غزہ میں ایک متفقہ لائن تک انخلا، اور انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔

دوسرے مرحلے میں غزہ کے لیے ایک نئی انتظامیہ کے قیام، حماس کے بغیر حکومتی ڈھانچے کی تشکیل، فلسطینی اور عرب و اسلامی ممالک کے مشترکہ سکیورٹی فورس کے قیام اور حماس کے غیر مسلح کیے جانے کا ذکر ہے،  اس منصوبے کے تحت عرب و اسلامی ممالک کی مالی معاونت سے غزہ کی تعمیرِ نو بھی کی جائے گی، جس میں فلسطینی اتھارٹی کا محدود کردار شامل ہوگا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں