اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت کے بیانات بتاتے ہیں کہ وہ کوئی نیا ایڈونچر کر سکتا ہے اور اپنی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنے کے لیے اقدامات کرے گا، مگر پاکستان پہلے سے زیادہ سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
زرایع کے ساتھ گفتگو میں خواجہ آصف نے بتایا کہ بھارت کی موجودہ پالیسی اور بیانات سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔
انہوں نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور بعض عناصر کی وجہ سے مزید بگاڑ کا امکان ہے۔ خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے دہشت گردی کی برآمد ہورہی ہے اور ایسے حالات میں سرحد پار واقعات سے تعلقات مزید متاثر ہوں گے، جب کہ پاکستان اچھے ہمسائے کے روایتی اصولوں کے مطابق تعلقات چاہتا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کی پناہ گاہوں کے بارے میں مقامی سطح پر معلومات رکھنے والے باشندوں کی خاموشی کو نیمِ رضامندی سمجھا جائے گا اور قومی سلامتی کے مفاد میں کسی بھی صورت محبِ وطن شہریوں کا نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ بھارت جو غلط فہمیاں رکھتا تھا وہ دور ہو چکی ہیں اور اگر کوئی جارحیت ہوئی تو پاکستان ماضی سے زیادہ مؤثر اور منہ توڑ جواب دے گا۔