اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہوتی ہیں، پاکستان ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی واحد اور واضح درخواست افغانستان سے یہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ہمسایہ ہونے کے ناتے ہمیشہ سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دیتا رہا ہے، چاہے افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ہی کیوں نہ موجود ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیتا ہے۔ یہ کارروائیاں مصدقہ معلومات کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ان میں غیر معمولی احتیاط اور درستگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد کسی ملک کی خودمختاری کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ اپنے عوام کو دہشتگردی کے خطرے سے بچانا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم کا حالیہ بیان “Enough is Enough” پاکستان کے عزم اور سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف اپنی پالیسی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔
ترجمان نے کہا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشتگردی کے واقعات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا ہے، تاہم اسلام آباد نے ہمیشہ تحمل اور سفارتی مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کابل حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف گزشتہ دو دہائیوں میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مسلسل کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی قیادت کے لیے یہ لمحۂ فکر ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کو لگام دے، کیونکہ ایسے عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے، لیکن اگر اس کے خلاف کارروائیاں بڑھتی رہیں تو مناسب جواب دینا پاکستان کی مجبوری بن جائے گا۔