لندن: برطانوی جریدے دی گارڈین نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف کی غیر معمولی سفارتی مہارت اور بردباری کی کھل کر تعریف کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ امن سربراہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع اور بعض اوقات بے ساختہ رویے نے کئی عالمی رہنماؤں کو مشکل میں ڈال دیا، لیکن صرف شہباز شریف وہ رہنما ثابت ہوئے جنہوں نے صورتِ حال کو نہ صرف سنبھالا بلکہ ماحول کو خوشگوار بھی بنا دیا۔
دی گارڈین نے لکھا کہ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے بعض مواقع پر غیر رسمی حرکات کیں۔ اطالوی وزیراعظم کی تعریف کرتے ہوئے تقریر روک دی، برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کا مائیک خود سنبھال لیا اور کینیڈا کے وزیراعظم کو مذاق میں “گورنر” کہہ دیا۔ اس دوران اجلاس کا نظم متاثر ہوتا نظر آیا، مگر شہباز شریف کی سفارتی حاضر دماغی نے سب کچھ سنبھال لیا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے اپنی تقریر کے آغاز میں ٹرمپ کی تعریفوں کے چند جملے شامل کیے جس سے امریکی صدر فوری طور پر خوشگوار موڈ میں آ گئے۔ جب ٹرمپ دوبارہ اسٹیج کی طرف بڑھے تو شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے نہایت شائستگی سے انہیں روکا اور اپنی تقریر مکمل کی، جس پر ٹرمپ بھی قہقہہ لگانے پر مجبور ہوگئے۔
دی گارڈین کے مطابق یہ منظر اس بات کا ثبوت تھا کہ شہباز شریف نے نہ صرف ڈپلومیسی اور اخلاقی فہم کا مظاہرہ کیا بلکہ امریکا جیسے طاقتور رہنما کے غیر متوقع رویے کو بھی اعتماد اور مہارت سے قابو میں رکھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کا یہ رویہ پاکستان کے لیے ایک مثبت سفارتی تاثر بن گیا ہے، جس نے عالمی سطح پر پاکستان کی پراعتماد، متوازن اور بردبار قیادت کی چھاپ چھوڑ دی ہے۔