پنجاب حکومت نے افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں افغان باشندوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی افغان شہریوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے “وسل بلوئر سسٹم” متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت اطلاع دینے والے کا نام مکمل طور پر صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے غیر قانونی رہائشیوں اور ان کے کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایسے غیر ملکی باشندوں کو وفاقی پالیسی کے تحت فوری طور پر ملک بدر کیا جائے گا۔
دوسری جانب، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی کی بندرگاہوں سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ترسیل عارضی طور پر معطل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ، کسٹمز ہاؤس کراچی میں ڈائریکٹر جنرل افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کوئٹہ اور پشاور کے افغان ٹرانزٹ ڈائریکٹرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری کردہ کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 98.2025 کے مطابق، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ترسیل کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کی وجہ کوئٹہ اور پشاور میں کنٹینرز کی محدود گنجائش بتائی گئی ہے، جہاں مزید کنٹینرز رکھنے کی جگہ دستیاب نہیں رہی۔
تمام ٹرمینلز کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو کنٹینرز پہلے ہی گاڑیوں پر لوڈ کیے جا چکے ہیں، انہیں فوری طور پر آف لوڈ کر دیا جائے۔ ساتھ ہی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تمام گیٹ پاسز منسوخ کر دیے گئے ہیں اور ترسیل کو مکمل طور پر روکنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نئی ہدایات تک نافذ العمل رہے گا۔