چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چین دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ چین نے مشترکہ تحمل، مکمل اور پائیدار جنگ بندی کی حمایت کا بھی اعادہ کیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے امدادی مشن نے بھی پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لڑائی بند کی جائے اور تنازع کا دیرپا حل تلاش کیا جائے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ روز سے شروع ہونے والی 48 گھنٹے کی جنگ بندی پر عمل درآمد جاری ہے، جو امکان ہے کہ کل شام تک برقرار رہے گی۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان میں طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر ہدفی کارروائیوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
علاوہ ازیں، پنجاب حکومت نے افغان شہریوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں افغان باشندوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی افغان شہریوں کا ریئل ٹائم ڈیٹا تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے “وسل بلوئر سسٹم” متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت اطلاع دینے والے کا نام مکمل طور پر صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے غیر قانونی رہائشیوں اور ان کے کاروباروں کے خلاف کومبنگ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایسے غیر ملکی باشندوں کو وفاقی پالیسی کے تحت فوری طور پر ملک بدر کیا جائے گا۔