لاہور:پنجاب حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کا سراغ لگائے جانے کا دعویٰ کردیا گیا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ قیاس آرائیاں چل رہی تھیں کہ سعد اور انس رضوی پہلے ہی حراست میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مریدکے میں ہونے والے کریک ڈائون کے بعد دونوں بھائی موٹرسائیکل پر فرار ہوئے جو بعد ازاں آزاد جموں و کشمیر پہنچ گئے۔
اس حوالے سے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اور ان کے بھائی کو پہلی بار مریدکے میں احتجاجی کیمپ سے پیدل جاتے اور پھر موٹر سائیکل پر فرار ہوتے دیکھا گیا۔
اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ایک ہنگامی پیغام جاری کیا گیا کہ ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ ٹی ایل پی کے سربراہ اور ان کا بھائی قریبی گلیوں کی طرف جا رہے ہیں، تاہم تینوں مشتبہ افراد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوگئے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کے فرار ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے زخمی ہونے سے متعلق افواہیں گردش کرنے لگیں لیکن خصوصی ٹیموں نے بالآخر ٹی ایل پی رہنمائوں کی آخری لوکیشن آزاد جموں و کشمیر میں ٹریس کی، جس کے بعد ان کی گرفتاری کے لیے علاقائی حکومت سے مدد طلب کی گئی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ معلومات آزاد جموں و کشمیر انتظامیہ کے ساتھ شیئر کر دی ہیں اور ان سے ٹی ایل پی رہنمائوں کی گرفتاری میں تعاون کا کہا گیا ہے۔